بس ایک قطرہ ہوں میں کوئی جھیل تھوڑی ہوں | خوبصورت اردو شاعری

0 16

بس ایک قطرہ ہوں میں کوئی جھیل تھوڑی ہوں
نہیں ہوں سب کو مہیا ، سبیل تھوڑی ہوں

مرے سہارے پہ وحشت کا بول بالا ہے
میں خاکِ عشق ہوں شاہی فصیل تھوڑی ہوں

میں کیسے پریوں کے اجسام پاک کر پاتا
میں اک فضول کنارہ ہوں جھیل تھوڑی ہوں

اداسی مجھ کو نگل جائے گی جوانی میں
کٹا ہوا ہوں جڑوں سے ، طویل تھوڑی ہوں

یہ بانجھ لوگ کسے پیش کر رہے ہیں مجھے
سند حوالہ ہے لیکن دلیل تھوڑی ہوں

مجھے بھی رک کے مہ و مہر غور سے دیکھیں !
تمھارے جیسا ! حسین و جمیل تھوڑی ہوں

بس ایک قطرہ ہوں میں کوئی جھیل تھوڑی ہوں
نہیں ہوں سب کو مہیا ، سبیل تھوڑی ہوں

شاعرٰ : عامر بلوچ

اگر آپ اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

یاد کا اک حصار باقی ہے دو جہانوں کا بار باقی ہے | اداس شاعری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.