سنو دنیا والو یہ دل کا فسانہ کہ دنیا میں یہ دل کبھی نہ لگانا نہیں چار دن کا یہاں پہ بھروسہ کہ فردوس ہی بس ہے اپنا ٹھکانا ذرا
urdu poetry beautiful
نیکی سب سے کریں، سب سے پائیں دعا خدمتوں عظمتوں کا چنیں راستہ خدمت خلق سے خوش ہو ربِ جہاں خدمتوں سے ملے راحتِ جاوداں مال، و جاں، وقت کی
جب دل پہ دستک ہوتی ہے ہر راز سے پردہ اٹھتا ہے جب راز سے پردہ اٹھتا ہے تب ذات خدا کی ملتی ہے اور ذات خدا جب مل جاۓ
حفظ کر کے آج دل میں پیارے اس قرآن کو تو نے آخر کر لیا خوش اپنے رب رحمان کو خیر و برکت اور نیکی خوب تم نے پائی ہے
بھاتی نہیں وفائیں مرے چارہ گر مجھے لگتا ہے اب تو عشق بھی شعلہ شرر مجھے جس دن شعور جھانکے گا گفتار سے مری رستے میں چھوڑ دیں گے مرے
آج لفظوں سے دل لگی کرلے کچھ فراغت ہے شاعری کرلے باندھ لے تو خیال کی گرہیں قافیے جوڑ کر لڑی کرلے زندگی موج میں گزارے گا تو فقیروں سے
مجھ پہ بھاری ہوئیں میری فرمائشیں بوجھ سی ہوگئیں بے سبب خواہشیں کیسے کہدوں میں غیروں سے جینے نہ دیں میرے ہمدرد و ہمفکر کی سازشیں
دل بھلا عارضی خوشیوں میں کہاں لگتا ہے اب تو ہر درد ہمیں نش٘ہ ِ جاں لگتا ہے یہ زیارت گہ ِ حسرت ہے ذرا دھیان رہے ان پہاڑوں پہ
صورت ہے لاجواب تو سیرت ہے لاجواب وہ آخری نبی ہیں نبوت ہے لاجواب قرآن کی زباں پہ ہے مدحت حضور کی قرآن نے جو کی ہے وہ مدحت ہے
میرے اجداد نے مانگا چمن میں آشیاں لوگو میرے رب نے عطا کر دی یہ فصل گلستاں لوگو اگرچہ ظلم و تاریکی میں ڈوبا ہے جہاں لوگو مگر ہم کو
Load More










