وہ بار بار جو کہتا رہا جناب مجھے | سوال و جواب پر اردو غزلیہ شاعری

urdu poetry heart touching | romantic urdu ghazal

1 12

وہ بار بار جو کہتا رہا جناب مجھے
اس ایک بات نے دکھلائے کتنے خواب مجھے

ہوا تو پھر نہ مری خاک تک بھی ڈھونڈ سکی
کیا جو اس نے مسافت میں ہمرکاب مجھے

خدا مزید کرے خوبرو تجھے لیکن
بڑا ہی خوار کرے ہے ترا شباب مجھے

بلا کی دھند میں رستہ سجھائی دینے لگا
ترا دیا ہوا جگنو تھا آفتاب مجھے

میں روز نیند میں جنت کی سیر کرتا ہوں
تمام رات ہی آتے ہیں تیرے خواب مجھے

ضرور دامنِ احباب میں نہیں پتھر
وگرنہ مارتے یہ طیش میں گلاب مجھے؟

تری نگاہ کے ملنے کی دیر تھی ،پھر تو
ہر ایک رنگ کا پانی لگا شراب مجھے

میں اس یقین پہ جیون گزار آیا ہوں
کہ مل ہی جائے گی دو دن میں کوئی جاب مجھے

چھپا کے شرم کے آنچل میں خواہشیں ساری
سدا وہ شخص ملا اوڑھ کے نقاب مجھے

گنوا رہا ہے بصد شوق جو مری قربت
کرے گا حال غریبی میں بازیاب مجھے

میں پھر سوال کی جرآت ہی کر سکوں نہ کبھی
کسی مقام پہ ایسا بھی دے جواب مجھے

شکست و ریخت میں میری اسی کی سازش ہے
جو چاہتا تھا کبھی کرنا کامیاب مجھے

شدید حبس تھا ماضی کے اس طرف احسن
مزید ہجر بھی کرتا رہا خراب مجھے

وہ بار بار جو کہتا رہا جناب مجھے
اس ایک بات نے دکھلائے کتنے خواب مجھے

شاعری: احسن اعجاز

کس سے حال دل کہوں یہ سارا قصبہ ہے رقیب | رقیب کے نام شاعری

اگر آپ مزید اردو غزلیہ شاعری پڑھنا چاہتے ہین تو یہ لازمی دیکھیں

1 تبصرہ
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.