اس کے پاؤں پڑوں؟ یہ انا تو نہیں وہ بھی اک آدمی ہے خدا تو نہیں | دلکش اردو شاعری

1 18

اس کے پاؤں پڑوں؟ یہ انا تو نہیں
وہ بھی اک آدمی ہے خدا تو نہیں

فیصلہ کر کے تو کیوں پریشان ہے
میرے لب پر کوئی حرفِ لا تو نہیں

اشک تپ تپ کے آتے ہیں رخسار پر
میری آنکھوں میں کرب و بلا تو نہیں ؟

جانے والے ترے ہجر کی قید میں
گھٹ گیا ہوں مگر ، میں مرا تو نہیں

بال سے بھی ادق, تیغ سے تیز بھی
امتحاں ہے یہ اک ،راستہ تو نہیں

تجھ سے ہر شخص ناراض ہے شہر کا
یہ کسی کی تجھے بددعا تو نہیں

کل سے ہے وہ خفا، تو نے اس سے کہیں
مجھ سے جو کچھ سنا، کہہ دیا تو نہیں

کیوں جھکاؤں میں سر اس کے ہر حکم پر
حاکمِ وقت ہے کبریا تو نہیں

جس جگہ نکہت و نور ہیں رقص میں
آپ کا وہ کہیں نقشِ پا تو نہیں

میرے دشمن ترا وار کاری سہی
پر مجھے دیکھ میں رو رہا تو نہیں

دعوتِ دوستی دینے والے بتا
تیرا ہر فرد سے رابطہ تو نہیں؟

اس سے ملنے سے اعجاز ڈرتے ہو کیوں
وہ حسیں ہے مگر بے وفا تو نہیں

اس کے پاؤں پڑوں؟ ، یہ انا تو نہیں
وہ بھی اک آدمی ہے خدا تو نہیں

شاعری: احسن اعجاز

اگر آپ دوست کے متعلق شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

کس سے حال دل کہوں یہ سارا قصبہ ہے رقیب | رقیب کے نام شاعری

1 تبصرہ
  1. najlepszy sklep کہتے ہیں

    You are in reality a good webmaster. The web site loading velocity is amazing.
    It kind of feels that you’re doing any unique trick.
    In addition, the contents are masterpiece. you have done a great job in this matter!
    Similar here: quorionex.top and also here: E-commerce

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.