براؤزنگ ٹیگ

poetry about best friend in urdu

اغیار منافق تو کبھی یار منافق ۔۔۔ آئے ہیں مرے سامنے ہر بار منافق

اغیار منافق تو کبھی یار منافق آئے ہیں مرے سامنے ہر بار منافق اُس قوم کا انجام تو معلوم ہے سب کو جس قوم کے لوگوں کا ہو سردار منافق دیتے ہیں مرے گھر کی خبر اور کسی کو نکلے مرے گھر کے در و دیوار منافق کمزور کیے جاتا ہے رشتوں کی…

اک دن تو رفاقت میں بچھڑنا ہی پڑے گا | بچھڑے دوستوں پر اشعار

اک دن تو رفاقت میں بچھڑنا ہی پڑے گا فرقت کی اذیت سے گزرنا ہی پڑے گا انجام بھلا ہجر کا الفت کا عمق ہو کچھ روز مگر دل کو تڑپنا ہی پڑے گا اُن دور جزیروں کی اگر سیر ہے مقصود آنکھوں کو سمندر میں تو ڈھلنا ہی پڑے گا…

تُو مصروفِ زمانہ ہے تجھے ہم یاد کیا آئیں| دوستی پر شاعری

تُو مصروفِ زمانہ ہے تجھے ہم یاد کیا آئیں تیری عادت بُھلانا ہے تجھے ہم یاد کیا آئیں ہمارے رنج و غم کی داستاں ظالم ترے آگے فسانہ ہی فسانہ ہے تجھے ہم یاد کیا آئیں تجھے محبوبِ دنیا بننے کی عادت نے گھیرا ہے ہر اک سے دوستانہ ہے تجھے ہم…

ائے ہمدم مرے حرفِ اعجاز سن | قیدی دوست کے لئے نظم

ائے ہمدم مرے حرفِ اعجاز سن صبر کرنے والوں کا یہ راز سن ہر اک شب کی قسمت میں ہے اک سحر وہ نصر من اللہ کی آواز سن تو رہ کر قفس میں بھی آزاد ہے اسیر ِ خزاں تیرا صیاد ہے بدست ِصبا ِچمن تیرا نام یہ گلشن ترے دم سے آباد ہے…

آ چل خدا کی جانب تو کس طرف چلا ہے؟ سچے دوست کے لئے نظم

آ چل خدا کی جانب تو کس طرف چلا ہے؟ اے بے خبر مسلماں دنیا تو بے وفا ہے لاکھوں کروڑوں شاہاں آئے چلے گئے ہیں مٹی میں مل کے ان کا ہر اک نشاں فنا ہے یہ مال و زر کی چاہت ، دنیا سے لو لگانا ایمان سے ہے دوری ، شیطاں کا رااستہ ہے قارون…

سچی باتیں اب بتانا جرم ہے | دوستی پر شاعری

سچی باتیں اب بتانا جرم ہے جھوٹ سے پردہ ہٹانا جرم ہے روز ہوتا ہے تماشا اک نیا آئنہ لیکن دِکھانا جرم ہے شہر کا حاکم ہے مستی میں مگن حالِ دل اس کو سنانا جرم ہے بُھول بیٹھے اپنا ماضی اس طرح اب اِنھیں رستہ سُجھانا جرم ہے کیسے…

کب تلک کرتے رہیں گے ہم خطا| ایمان کی تمنا کی شاعری

کب تلک کرتے رہیں گے ہم خطا مومنو! آؤ چلیں راہِ خدا ﷻ فانی دنیا کی ہوس کو چھوڑ کر اپنے دل کو مصطفیؐ سے جوڑ کر سارے رشتے اِس جہاں سے توڑ کر دینِ برحق کو بناؤ مقتدیٰ نفس کی اِس پیروی سے توبہ کر عاشقی سے، دل لگی…

اسے رستہ بدلنا تھا بدل کر راستہ خوش ہے | اداس شاعری

اسے رستہ بدلنا تھا بدل کر راستہ خوش ہے مرے دل کو کچلنا تھا کچل کر بے وفا خوش ہے سنو! ان کو فقط میرا یہی پیغام دے دینا اداسی ہے نگاہوں میں، مگر یہ آتما خوش ہے اسے بھی رنج تھا شاید، بہت غمگین تھا اس دن خفا وہ بھی، دکھی میں بھی مگر وہ…