موج  ہوا کا ذائقہ چکھتے ہی بجھ گئے | چراغوں پر اشعار |Urdu Ghaza Lyrics

Urdu Poetry Best |Urdu Poetry On Light |Urdu 2 Lines Poetry | amazing urdu poetry

0 3

موج  ہوا کا ذائقہ چکھتے ہی بجھ گئے
سہمے چراغ وقت سے پہلے ہی بجھ گئے

کل شب مرا جُھکاؤ چراغوں کی سمت تھا
فورا انہیں جلا لیا جیسے ہی بجھ گئے

اتنے بڑے جہان میں کتنے چراغ تھے
آندھی چلی تو صرف ہمارے ہی بجھ گئے

روشن کئی چراغ تھے شب کے زوال تک
وائے نصیب! کچھ دیے جلتے ہی بجھ گئے

لشکر بنا کے جنگ ہوا سے نہیں لڑی
تنہا جلے تھے اور اکیلے ہی بجھ گئے

روپوش کچھ دیے ہیں ابھی طاقچوں سے دور
آندھی سمجھ رہی ہے کہ سارے ہی بجھ گئے

لیکن ہوائے تند کو اس کی خبر نہیں
کتنے چراغ جلنے سے پہلے ہی بجھ گئے

میری وفا کی آگ سے اس کی بھی لو جلی
پھر یوں ہوا کہ دونوں اکٹھے ہی بجھ گئے

بستی میں ایک ایسی خبر گردشوں میں ہے
ایسی خبر کہ سب جسے سنتے ہی بجھ گئے

عادل کئی چراغ تو خائف تھے اس قدر
جیسے اشارہ مل گیا ویسے ہی بجھ گئے

موج  ہوا کا ذائقہ چکھتے ہی بجھ گئے
سہمے چراغ وقت سے پہلے ہی بجھ گئے

شاعری : عادل حسین

کسی نے خار ، کسی نے دیے گلاب مجھے

کمال ِ ہجر نہیں ہے سُخنوری میری | اداس شاعری | Urdu Poetry Sad 2 Lines

Urdu Poetry Best |Urdu Poetry On Light |Urdu 2 Lines Poetry | amazing urdu poetry

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.