بھلا بتاؤ بھی کیا ہوا ہے جو اتنا غم سے نڈھال ہو تم|اردو شاعری

best urdu poetry sad

0 21

بھلا بتاؤ بھی کیا ہوا ہے جو اتنا غم سے نڈھال ہو تم
ہمارے دل کو جلا کے آنسو بہا رہے ہو کمال ہو تم

وہ شمَّع جلتی کہ اُس کا ہم سے رویہ اتنا عجیب سا تھا
فضا سے بولی کہ تو ہے رحمت کہا پَتِنگو ! وبال ہو تم

قیام تم نے کیا ہے جب سے اے دل کے مہماں ہمارے دل میں
چِھڑی ہوئی جنگ خود سے ہی ہے اور ایک فردِ جدال ہو تم

تمہارے اِس ہجر میں او جاناں الگ ہی حالت ہوئی ہے دل کی
لگا ہے لگنے کی پاس ہی ہو اگرچہ میرا خیال ہو تم

نہ ہم نے دیکھا ہیں ان کو دانش نہ جانے کتنے حسین ہوگے
قمر بھی ان سے یہ کہتا ہوگا کہ مہرِ حسن و جمال ہو تم

بھلا بتاؤ بھی کیا ہوا ہے جو اتنا غم سے نڈھال ہو تم
ہمارے دل کو جلا کے آنسو بہا رہے ہو کمال ہو تم

از: شیخ دانش عاصی اورنگ آبادی

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

تَصوُّر میں ہمارے چاند تارے دسترس میں ہیں | خیالات پر اردو شاعری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.