لیلتہ القدر یعنی شب قدر کو واضح متعین کیوں نہیں کیا گیا ؟ ایک سوال اور اس کا جواب

Why Laylat al-Qad is not exactly mentioned and why it is different in different countries | Reality of shab e qadr

1 64

لیلتہ القدر یعنی شب قدر رمضان المبارک کی ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے… جس میں قرآن پاک نازل ہوا… جس رات میں کی جانے والی عبادت اللہ رب العزت کو بہت پسند ہے اور جس رات میں کی جانے والی دعائیں رد نہیں ہوتیں.

اس رات کی خیر و برکت کے حوالے سے آپ نے علماء کرام سے بہت کچھ سنا ہو گا اور وہ سب انتہائی باتیں مفید ہیں لیکن آج اس حوالے سے کچھ ایسے سوالات اور ان کے جوابات ڈسکس کرنے لگا ہوں ہیں جو ایک عام مسلمان کے دل میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ انہیں کسی سے پوچھتے ہوئے ہچکچاتا ہے.

لیلتہ القدر اتنی اہم رات ہے اس کی نشانیاں  کیوں بتائی گئی؟  اسے واضح متعین  کیوں نہیں کیا گیا؟

ہمارے پاس احادیث پہنچی ہیں کہ اللہ کے نبی نے صحابہ کرام کو بتایا کہ مجھے لیلتہ القدر بھلا دی گئی اور تم لیلتہ القدر کو رمضان المبارک کی  طاق راتوں میں تلاش کرو… مزید یہ کہ لیلتہ القدر کی کچھ نشانیاں بتا دی گئیں. بہر حال اب یہاں سوال اٹھتا ہے جو شاید کچھ علماء کے نزدیک اہانت کے زمرے میں آتا ہو کہ اگر اتنی اہم رات تھی تو وہ کیسے بھول گئی جب کہ دین تو مکمل پہنچا دیا گیا ہے… نیز اگر بھول بھی گئی تھی تو اللہ کے نبی کے لئے مشکل نہیں تھا کہ اگلی بار جبرائیل علیہ السلام جب آتے تو ان سے دوبارہ پوچھ لیا جاتا کہ یہ قرآن مجید رمضان المبارک کی کس رات میں نازل ہوا؟ اب ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ کے نبی نے نعوذ باللہ لیلتہ القدر کے حوالے سے جھوٹ بولا.

تو اب اس کا حل کیا ہے؟ آپ ایک پکے سچے مسلمان کو تو اپنی چند باتوں کے ساتھ مطمئن کر سکتے ہیں لیکن ایک نومسلم کو اس کی وضاحت دینا انتہائی ضروری  ہے . اور اس معاملے میں ہم اللہ کے نبی کے جج نہیں بنیں گے بلکہ ان کے وکیل بنیں گے. یعنی ان کے لیلتہ القدر کے حوالے سے احادیث پر سوال نہیں اٹھائیں گے بلکہ ان کی وضاحت کریں گے اور وہ وضاحت یہی ہے کہ دراصل اللہ کے نبی یہ چاہتے ہیں کہ میری امت زیادہ سے زیادہ عبادت کرے. اور اس وجہ سے انہوں نے عبادت کے لئے ایک رات نہیں بلکہ پانچ راتیں بتا دیں.

شب القدر ۔۔۔ ایک تالا پانچ چابیاں

یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ ایک بندہ آپ کو پانچ چابیاں دے اور آپ کو کہے کہ فلاں کمرے کا تالا ان چابیوں سے کھلتا ہے. اب جو عقلمند انسان ہو گا وہ بجائے یہ کہنے کے کہ ایک چابی بتاؤ تب ہی تالا کھولوں گا ورنہ نہیں… وہ بندہ پانچوں چابیاں اٹھا لے گا اور ایک ایک کر کے کھولنے کی کوشش کرے گا اور یقیناً کامیاب ہو جائے گا. اس میں اگرچہ اس کا وقت تو لگ جائے گا لیکن تالا بہرحال کھل جائے گا.

بالکل یہی صورتحال لیلتہ القدر کے حوالے سے ہے کہ ایک رات کی بجائے پانچ راتوں میں اسے تلاش کرنے کی حکمت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اللہ کے نبی چاہتے ہیں میری امت زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرے. اب آپ نے ایک رات کو تلاش کرنے کے دوران پانچ رات عبادت کر لی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ کو ملی تو ایک ہی لیلتہ القدر ہے لیکن باقی چار راتوں کی عبادت ضائع ہو گئی. عبادت تو کبھی ضائع نہیں ہوتی. اب ہوا یہ کہ رمضان المبارک کی ہر رات بابرکت ہے… لیکن آپ نے ایک رات میں عبادت کرتے کرتے آخری عشرے کی ساری طاق راتیں عبادت میں گزار دیں. کس لیے؟ اللہ کو راضی کرنے کے لیے… اپنے گناہ بخشوانے کے لیے… آخرت میں اجر کے لیے اور جنت کے لیے.

لیلتہ القدر پوری دنیا کے تمام ممالک میں  ایک کیوں نہیں؟

دوسرا سوال بھی لفظی طور پر ایک جیسا ہے لیکن معنوی طور پر مختلف اور وہ یہ کہ آخر لیلتہ القدر ہر ملک کے اندر حتی کہ صرف پاکستان میں ہی پشاور میں ایک رات قبل اور لاہور میں ایک رات بعد میں آتی ہے تو آخر لیلتہ القدر ایک کیوں نہیں. اب اس کی وجہ روئیت حلال کمیٹی کے علماء کا اختلاف نہیں بلکہ وجہ کچھ اور ہے اور وہ علماء کرام کے اتفاق کرنے کے باوجود حل نہیں ہونی.

مثلاً ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان آٹھ گھنٹے کا وقت کا فرق ہے یعنی جس وقت پاکستان میں دن ہوتا ہے امریکہ میں رات. تو اگر پوری دنیا کے تمام مسلمان سوشل میڈیا کی بدولت ایک رات پر بھی متفق ہو جائیں کہ سعودیہ عرب کے لحاظ سے یا کسی اور بھی ملک کے لحاظ سے نیا چاند دیکھتے ہی اس کے حساب سے یکم رمضان اور پھر طاق راتیں فکس کی جائیں تو پھر بھی آپ طاق راتیں پوری دنیا میں ایک نہیں کر سکتے.

جو رات امریکہ میں طاق ہو گی وہ پاکستان میں طاق نہیں سمجھی جاے گی اور جو پاکستان میں طاق سمجھی جاے گی وہ امریکہ میں طاق نہیں ہو گی. تو پھر اس کا حل کیا؟

ایک عام مسلمان کے لئے شب القدر کو متعین کرنے کا طریقہ 

اس کا حل یہ ہے کہ آپ شب قدر کو ترغیب کے طور پر سمجھیں۔۔۔ نہ کہ اس انداز میں کہ اگر ساری زندگی آپ  یہ رات نہ پا سکے تو کوئی گناہ سرزد ہو گیا۔   اپنے ملک کی حکومت کے اعلان کے مطابق یکم رمضان المبارک کا تعین کریں اور اسی تاریخ کے لحاظ سے طاق راتوں کا حساب رکھیں. ہر مسلمان اپنے اپنے علاقے کی مناسبت سے طاق راتوں میں عبادت کرے اور لیلتہ القدر کا ثواب حاصل کرے. اپنے گناہ بخشوائے اپنی نیکیوں میں اضافہ کرے اور اپنے راب کو راضی کرے.

اب ذرا تصور کریں کہ اگر اللہ کے نبی ایک رات فکس کر دیتے کہ فلاں رات لیلتہ القدر ہے اور باقی نہیں تو بتائیں پوری دنیا کے مسلمان اس پر کیسے فیصلہ کرتے؟ کچھ کہتے ہمارے علاقے والی رات ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب لیلتہ القدر ہے اور کچھ کہتے نہیں اتوار اور سموار کی درمیانی شب لیلتہ القدر ہے. اس صورت میں جو مسلمان عیدیں تو مختلف دن میں منا لیتے ہیں لیلتہ القدر مختلف دنوں میں دیکھ کر شاید اتنی خوشی محسوس نہ کرتے.
تو اب امید ہے کہ آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ لیلتہ القدر کو طاق راتوں میں چھپانا اس لیے تھا تا کہ تمام دنیا کے مختلف علاقوں مختلف ممالک میں رہنے والے  مسلمان رمضان المبارک کے آخری عشرے کی  پانچوں  راتوں میں عبادت کریں نہ کہ کوئی اور وجہ. واللہ اعلم بالصواب

تحریر : سلیم اللہ صفدر

کس قدر باثمر لیلتہ القدر ہے | شب قدر پر اردو شاعری

1 تبصرہ
  1. مدثر نوید کہتے ہیں

    ماشآاللہ، بہت خوب سمجھایا آپ نے، اللہ آپکو جزا دے۔ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.