بندہ پرور کبھی نہیں ہوتی۔۔۔۔ ہم سے تو پیروی نہیں ہوتی

اداس دل کی گہرائیوں سے لکھی گئی خوبصورت لیکن غمگین اردو شاعری

3 49

بندہ پرور کبھی نہیں ہوتی
ہم سے تو پیروی نہیں ہوتی

ہجر میں خوب ہوتی ہے لیکن
وصل میں شاعری نہیں ہوتی

تم سے کس نے یہ کہہ دیا آخر
دشت میں زندگی نہیں ہوتی

انگلیاں بھی جلا چکا ہوں میں
جانے کیوں روشنی نہیں ہوتی

آس کے دیپ بجھ گئے سارے
یعنی اب آس ہی نہیں ہوتی

کر چکا ہوں میں بارہا کوشش
زرد شاخ اب ہری نہیں ہوتی

زیست میں مشکلات آتی ہیں
اس کا حل خودکشی نہیں ہوتی

تم نے اعمال دیکھے ہیں اپنے
اس طرح بندگی نہیں ہوتی

تلخ لمحے کچھ ایسے بیتے ہیں
مجھ سے اب دل لگی نہیں ہوتی

دوستا کچھ تو ہے جو چپ ہے تو
بے سبب خامشی نہیں ہوتی

میرا پیکر ہے ان کے ہاتھوں میں
جن سے کوزہ گری نہیں ہوتی

تم اگر سچ نہ بولتے تو آج
بارشِ سنگ بھی نہیں ہوتی

جام پر جام پی لیے عاطر
پھر بھی آسودگی نہیں ہوتی

بندہ پرور کبھی نہیں ہوتی
ہم سے تو پیروی نہیں ہوتی

شاعری: عمر عاطر

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

میں منتظر تھا اس کی طرف سے جواب کا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.