نشوں میں جواں ڈوبتے جا رہے ہیں | نوجوانوں اور جوانی پر اشعار

0 52

نشوں میں جواں ڈوبتے جا رہے ہیں
غلط راہ پر ہی چلے جا رہے ہیں

یہ غفلت کی مے ان کی ہاتھوں میں آئی
اسے ہی مسلسل پیے جا رہے ہیں

بھلا کر کے روح اب لگی جسم کی دوڑ
یہ جنسی ہوس میں مرے جا رہے ہیں

نشوں نے کیا ہوش سے اتنا عاری
جوانی دیوانی جیے جا رہے ہیں

اچھائی کوئی بھی یہ کرنے سے بھاگیں
برائی مسلسل کیے جا رہے ہیں

گناہوں میں ہر وقت ڈوبے ہوئے ہیں
یہ خود کو ہی دھوکہ دیے جا رہے ہیں

یہ اظہر کا درد اب سنو اے جوانو
کہ آنکھوں سے آنسو بہے جا رہے ہیں

نشوں میں جواں ڈوبتے جا رہے ہیں
غلط راہ پر ہی چلے جا رہے ہیں

شاعری: ڈاکٹر محمد اظہر خالد

جس نے کیا ہے عشق مِری جاں تمام شد

نیند آتی نہیں بھوک لگتی نہیں ۔۔۔ زندگی میری بن تیرے کٹتی نہیں 

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.