یاد کے پیڑ کی شاخوں پہ چہک ہوتی ہے | یاد پر اردو شاعری

Urdu poetry heart touching | urdu poetry sad 2 lines

0 10

یاد کے پیڑ کی شاخوں پہ چہک ہوتی ہے
اور پھر صبح کے ہنگام تلک ہوتی ہے

جانا ہوتا ہے مجھے نیند کی وادی کی طرف
سامنے سوچ کے رستے کی سڑک ہوتی ہے

دوست پل بھر میں مرے راز اگل دیتے ہیں
جیسے کشکول ہلانے سے کھنک ہوتی ہے

غیر آباد علاقوں کی طرف، جیسے کہ دل
شام کے وقت اداسی کی کمک ہوتی ہے

گویا آنگن میں کوئی چاند اتر آیا ہو
روشنی سی مرے گھر تابہ فلک ہوتی ہے

اپنے کمرے میں لگا رکھی ہے تصویر تری
جس سے اک وقت مقرر میں مہک ہوتی ہے

رنگ قدرت نے کچھ ایسے ہیں بکھیرے تجھ میں
سات رنگوں سے بنی جیسے دھنک ہوتی ہے

دیپ جل اٹھتے ہیں بے نور ہوئی آنکھوں میں
جب کہیں سے ترے آنے کی بھنک ہوتی ہے

عکس اس کا کبھی دھندلا نہیں ہوتا عاطر
وہ جو دکھنے میں فقط ایک جھلک ہوتی ہے

یاد کے پیڑ کی شاخوں پہ چہک ہوتی ہے
اور پھر صبح کے ہنگام تلک ہوتی ہے

شاعری: عمر عاطر

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

یاد کا اک حصار باقی ہے دو جہانوں کا بار باقی ہے | اداس شاعری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.