تیرگی چیر کے نکلے گا رخِ تاب کوئی | درد بھری اردو شاعری

0 40

تیرگی چیر کے نکلے گا رخِ تاب کوئی
جو سلامت نہیں چھوڑے گا یہاں خواب کوئی

اس کی غربت کا تعین نہیں ممکن جس کا
کوئی دشمن ہے نہ ہے حلقہء احباب کوئی

ہنس یوں بھی نہیں آ پاتے سفر سے واپس
راستے میں نہیں پڑتا کہیں تالاب کوئی

لوگ مصروف ہیں تصویر بنانے میں تری
اور ہوتا ہے ترے سامنے غرقاب کوئی

قبل از آمدِ جاناں تھے سبھی دل سوزاں
اب نظر ڈال بتا ، ہے یہاں بیتاب کوئی؟

وقت تو سب کو لگاتا ہے مقدر کی گزند
بھر ہی دے گا تری آنکھوں میں بھی سیلاب کوئی

ہم کوئی سخت بدن تھے جو جفا سہہ جاتے
آج تک عشق میں ٹھہرا ہے شفایاب کوئی؟

کھینچ لیتا ہے تھکن جسم کی رگ رگ میں چھپی
باندھ کر اپنی نظر سے مرے اعصاب کوئی

ہم وہ بدنام_زمانہ ہیں وطن میں احسن
جن سے ملتا ہی نہیں واقف_آداب کوئی

تیرگی چیر کے نکلے گا رخِ تاب کوئی
جو سلامت نہیں چھوڑے گا یہاں خواب کوئی

شاعری: احسن اعجاز

اگر آپ محبت پر مزید اردو شاعری پڑھنا چاہتے ہین تو یہ لازمی دیکھیں

جب وہ روتا ہے تو کیا خوب فضا بنتی ہے | غمگین اردو شاعری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.