آخرت کی سواری ۔۔۔ سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ

0 35

عبدالملک بن مروان ؒ نے بیت اللہ کا حج، حرم مدینہ کی زیارت اور رسول اللہ پر درود و سلام پیش کرنے کا ارادہ کیا۔ ماہ ذیقعدہ شروع ہوا تو خلیفہ نے اپنی سواریاں تیار کر لیں اور سرزمین حجاز کی جانب روانہ ہو گئے، ان کے ساتھ امرائے بنی امیہ کے بڑے بڑے لوگ بھی تھے اور حکومت کے بڑے بڑے افسر بھی تھے، خود خلیفہ کے بیٹے بھی شامل تھے۔ قافلہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ محو سفر تھا، جب لوگ تھک جاتے تو آرام کی غرض سے ٹھہرنے کے لیے خیمے لگا دئیے جاتے، قالین بچھا دیے جاتے اور علم و تذکرہ کی مجلسیں قائم کی جاتیں تاکہ لوگوں کے ایمان میں اضافہ ہو اور وہ اپنے دلوں کو یاد الٰہی سے منور کریں۔
خلیفہ مدینہ منورہ پہنچے تو سب سے پہلے حرم شریف گئے اور محمد  پر سلام و درود بھیجنے کا شرف حاصل کیا اور مسجد نبوی میں نماز ادا کر کے…… سعادت و خوش بختی سے سرفراز ہوئے۔ اس کام سے فارغ ہوئے تو ایسا سکون و اطمینان محسوس کیا کہ اس سے قبل ایسا لطف نہیں ملا تھا۔ خلیفہ نے اس کیفیت کے پیش نظر مدینہ میں قیام طویل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

”جو کسی چیز کی تلاش میں ہوتا ہے وہ خود اس کے پاس جاتا ہے۔“

مدینہ منورہ میں جو چیز خاص طور پر ان کے اوپر چھائی رہی یہ وہ علمی حلقے تھے جو ہر وقت مسجد نبوی کو آباد کئے رکھتے تھے۔ ان حلقوں میں بڑے بڑے تابعینؒ میں سے بے مثال علماء یوں چمکتے تھے جیسے آسمان پر ستارے جگمگا رہے ہوں۔ یہاں عروہ بن زبیررحمتہ اللہ علیہ کا حلقہ ہے۔ ادھر سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کا حلقہ ہے، وہاں عبداللہ بن عتبہ رحمتہ اللہ علیہ اپنی علمی مجلس جمائے بیٹھے ہیں۔

ایک روز ایسا ہوا کہ خلیفہ خلاف معمول ذرا جلدی قیلولہ سے بیدا ہو گیا اور دربان کو آواز دی:اے میسرہ!
میسرہ: جی! امیر المومنین میں حاضر ہوں۔
خلیفہ: مسجد نبوی میں جاؤ اور کسی عالم دین کو ہمارے پاس بلا لاؤ تا کہ ہم سے گفتگو کرے اور ہمیں سکون و اطمینان ملے۔
میسرہ مسجد نبوی کے اندر چلا گیا اور ہر طرف نظر دوڑائی لیکن ایک حلقہ کے علاوہ کوئی اور نظر نہ آیا۔ اس حلقہ کے وسط میں ساٹھ سال سے زائد عمر کے ایک بزرگ تشریف فرما تھے۔ جن کے اوپر علماء جیسی سادگی نظر آ رہی تھی۔
میسرہ: امیر المومنین ابھی بیدار ہوئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ مسجد میں جاؤ اور وہاں میرے کسی حدیث بیان کرنے والے کو دیکھو اور اسے لے آؤ!
شیخ: ”میں تو اس کے حدیث بیان کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔“
میسرہ: مگر وہ تو کسی بھی محدث کو تلاش کر رہے ہیں جو ان کے پاس حدیث بیان کرے۔
شیخ: ”جو کسی چیز کی تلاش میں ہوتا ہے وہ خود اس کے پاس جاتا ہے۔“

اگر انہیں حدیث میں دلچسپی ہے تو وہ یہاں آئیں۔

مسجد کا احاطہ بہت وسیع ہے اگر وہ ایسی کسی چیز میں رغبت رکھتے ہیں تو خود تشریف لائیں۔
حدیث ان کے پاس لے جائی جائے وہ حدیث کے پاس نہیں آسکتے؟“
چوکیدار انہی قدموں واپس ہوا اور جا کر خلیفہ سے چغلی کھاتے ہوئے کہنے لگا: مسجد میں مجھے سوائے ایک بزرگ کے اور کوئی نہ ملا، اس بزرگ کی طرف میں نے اشارہ کیا مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔ میں اس کے قریب گیااور کہا کہ امیر المومنین کو نیند نہیں آ رہی اور انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں مسجد میں ان کا کوئی حدیث بیان کرنے والا دیکھوں اور اسے بلا لاؤں، لیکن اس نے بڑے پر سکون اور پر وقار انداز میں کہا:
”میں ان کا حدیث بیان کرنے والا نہیں ہوں۔ مسجد بڑی وسیع ہے اگر انہیں حدیث میں دلچسپی ہے تو وہ یہاں آئیں۔“
میسرہ کے یہ الفاظ سن کر عبدالملک بن مروان رحمتہ اللہ علیہ چونک گئے۔ جلدی سے اٹھے اور یہ کہتے ہوئے اندر چلے گئے:یہ سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔
”تو ان کے پاس نہ جاتا اور اور کلام نہ کرتا تو بہتر تھا۔“

جب اس شخص نے اپنی بیٹی کا رشتہ ولی عہد سے نہیں کیا…… تو اس لڑکی کے لیے کوئی ایسا رشتہ مل سکے گا جو اس کا ہم پلہ ہو؟

جب خلیفہ مجلس سے اٹھ کر چلے گئے اور کمرے میں داخل ہو گئے تو ان کے ایک چھوٹے بیٹے نے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا: یہ کون آدمی ہے جو امیر المومنین کے حکم کی تعمیل نہیں کرتا اور ان کے پاس آنے سے انکار کر تا ہے۔ جب کہ دنیا خلیفہ کے سامنے جھک گئی ہے اور شاہان روم ان کی ہیبت سے سہمے ہوئے ہیں۔
بڑے بھائی نے جواب دیا: ”یہ وہ شخص ہے جس کی بیٹی کا رشتہ خلیفہ نے تیرے بھائی ولید کے لیے مانگا تھا مگر اس شخص نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔“
چھوٹے بھائی نے حیرت و تعجب میں کہا: کیا اس نے ولید بن کو رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا؟
کیا اس کو اپنی بیٹی کے لیے کوئی ایسا خاوند مل سکے گا جو ولی عہد سے زیادہ معزز و مکرم ہو؟ یہ تو خلیفہ کے بعد خلیفہ بنیں گے“
اس پر بڑے بھائی نے خاموشی اختیار کر لی اور کوئی جواب نہ دیا۔
چھوٹا بھائی پھر بولا: جب اس شخص نے اپنی بیٹی کا رشتہ ولی عہد سے نہیں کیا…… تو اس لڑکی کے لیے کوئی ایسا رشتہ مل سکے گا جو اس کا ہم پلہ ہو؟
یا پھر یہ شخص جس طرح بعض لوگ کرتے ہیں۔ بیٹی کی شادی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے اور اس کو گھر میں ہی بٹھائے رکھنا چاہتا ہے۔
بڑے بھائی نے کہا: اس بارے میں مجھے معلوم نہیں کہ اس کا اور اس کی بیٹی کا کیا معاملہ ہے؟

اس کی شادی کا قصہ بہت عجیب ہے

اسی دوران وہاں بیٹھے لوگوں میں سے مدینہ کا ایک آدمی بولا:”اگر جناب اجازت دیں تو بندہ اس لڑکی کا سارا قصہ بیان کرے“
سنئے! اس شخص نے اپنی بیٹی ہمارے محلے کے ایک آدمی ”ابووداعہ“ سے بیاہ دی ہے۔

اس کی شادی کا قصہ بہت عجیب ہے جو اس نے خود مجھ سے بیان کیا۔
ان دونوں شہزادوں نے کہا۔ سناؤ! کیا قصہ ہے ٖ جیسا کہ تجھے معلوم ہے۔

آدمی نے کہا: ابووداعہ نے مجھے بتایا ہے کہ: میں حصول علم کی خاطر مسجد رسول سے ہی چمٹا رہتا تھا۔اور سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ سے مستقل وابستہ تھا۔
میں اچانک کچھ دن شیخ کے حلقہ سے غائب رہا۔ میں انہیں نہ ملا تو انہوں نے سمجھا کہ بیمار ہو گیا ہو گایا کوئی کام پڑ گیا ہو گا۔
انہوں نے اپنے شاگردوں سے میرے بارے میں پوچھا لیکن کوئی بھی ایسا نہ ملا جو کچھ بتاتا۔کچھ دنوں بعد جب میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے سلام کہا اور پوچھا:
”ابووداعہ کہاں تھے؟“
میں نے کہا: میری بیوی فوت ہو گئی تھی اور اسی سلسلے میں مشغول رہا۔
شیخ: ”ابووداعہ! آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا؟ ہم آپ کی غم خواری کرتے اور مرحومہ کے جنازہ میں جاتے۔
میں نے کہا: اللہ آپ کو اجر دے! یہ کہہ کر میں اٹھنے لگا تو انہوں نے مجھے ٹھہرنے کے لیے کہا۔
پاس بیٹھے سارے لوگ چلے گئے تو مجھ سے کہنے لگے:
”ابووداعہ! کیا نئی شادی کے بارے میں بھی سوچا ہے؟“

ابووداعہ! شادی تو کر لی ہے…… اب تو کس سے قرض مانگتا پھرے گا؟

میں نے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! میں تو ایک یتیم و فقیر ہوں، میرے ساتھ کون اپنی بیٹی بیاہے گا؟میرے پاس تو دو یا تین درہم ساری دولت ہے۔
شیخ: ”میں اپنی بیٹی آپ کے ساتھ بیاہ دیتا ہوں۔“
یہ سن کر میری زبان چپ ہو گئی۔ بس اتنا عرض کیا آپ ……؟ آپ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دیں گے، جب کہ آپ نے میرے بارے میں سب کچھ معلوم کر لیا ہے۔
شیخ: ”ہاں!
ہم جب کسی کے دین و اخلاق پر راضی ہو تے ہیں تو اس سے رشتہ کر لیتے ہیں اور آپ دین و اخلاق کے اعتبار سے ہمارے نزدیک پسندیدہ ہیں۔“ پھر انہوں نے پاس بیٹھے آدمیوں کی طرف دیکھا اور ان کو آواز دی۔
آدمی ان کے قریب آئے تو سعید رحمتہ اللہ علیہ نے اللہ کی حمد و ثنا اور محمد  پر صلوٰۃ و سلام پڑھنے کے بعد اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دیا۔ اور اس کا مہر دو درہم رکھا۔
میں وہاں سے اٹھا تو خوشی اور رعب ودہشت کے باعث سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہوں!
پھر میں نے گھر کی راہ لی۔ اس روز میں روزہ سے تھا۔ خود سے ہی کہنے لگا:
ابووداعہ! اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔
شادی تو کر لی ہے…… اب تو کس سے قرض مانگتا پھرے گا؟کون ہے جس سے مال لے سکے گا؟

مجھے معلوم ہے کہ تیرے پاس کوئی نہیں جو تیری تنہائی کی وحشت کو دور کرے.

میں اسی سوچ میں تھا کہ مغرب کی اذان ہو گئی۔ میں نے فرض نماز ادا کی اور کھانے کے لیے بیٹھ گیا، کھانا کیا تھاروٹی اور تیل!
 میں نے ابھی ایک یا دو لقمے ہی لگائے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی!
میں نے پوچھا کون ہے؟
جواب ملا: سعید!
اللہ کی قسم! ہر وہ شخص جس کا نام سعید تھا میرے ذہن میں تھا کہ اگر مجھے یاد نہیں تھا تو صرف سعید بن مسیب نہیں تھا۔ کیونکہ وہ چالیس برس سے مسجد اور گھر کے درمیان کے علاوہ کہیں اور نظر نہ آئے تھے۔
میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ تھے۔مجھے خیال آیا کہ شاید میرے ساتھ بیٹی کا نکاح کر دینے کے سلسلے میں کوئی مسئلہ پیدا ہو گیا ہو۔
میں نے کہا: ابو محمد! آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں بھیج دیا۔ میں آپ کے پاس آ جاتا۔
سعید: آج تو آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ میں آ پ کے پاس آتا!“
میں نے کہا: اندر تشریف لے آئیں!
سعید: ”نہ!نہ! میں تو کسی کام کے سلسلے میں آیا ہوں۔“
انہوں نے کہا: ”میری بیٹی شرعاً صبح سے آپ کی بیوی ہے۔“
مجھے معلوم ہے کہ تیرے پاس کوئی نہیں جو تیری تنہائی کی وحشت کو دور کرے. لہٰذا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ تو کسی اور جگہ رات گزارے. اور تیری بیوی کسی اور جگہ! میں اس کو لے آیا ہوں۔“
میں نے کہا: میں تومارا گیا! آپ اس کو لے کر آ گئے ہیں؟
سعید رحمتہ اللہ علیہ: ”ہاں، لے آیا ہوں!“

”بیٹی! اللہ کے نام اور اس کی برکت کے ساتھ اپنے خاوند کے گھر میں داخل ہو جا۔“

میں نے دیکھا کہ وہ بھی ساکت و جامد کھڑی ہے۔
سعیدنے اس کی جانب دیکھا اور کہا:
”بیٹی! اللہ کے نام اور اس کی برکت کے ساتھ اپنے خاوند کے گھر میں داخل ہو جا۔“
جب اس نے قدم اٹھا کر آگے بڑھنا چاہا تو قریب تھا کہ شرم و حیا کے باعث وہ اپنے پردہ کی چادر سے الجھ کر گر پڑتی.
ادھر میری حالت یہ تھی کہ میں ان کے سامنے بے بس کھڑا تھا. سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہوں!
پھر جلدی سے آگے بڑھا اور سب سے پہلے اندر جا کر اس پلیٹ کو اٹھا کر چراغ کی روشنی سے دور رکھ دیا۔ جس میں روٹی اور تیل تھا۔ تا کہ وہ اس کودیکھ نہ لے۔
پھر میں بالا خانے سے نیچے اترا اور ہمسائیوں کو آواز دی!
انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟
میں نے کہا سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ نے آج مسجد میں اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کر دیا ہے اور اب وہ اچانک اسے میرے پاس چھوڑ بھی گئے ہیں۔
آپ کچھ دیر کے لیے اس کے پاس آ جائیں تا کہ میں اپنی والدہ کو بلا کر لے آؤں جو یہاں سے کچھ فاصلے پر رہتی ہیں۔
یہ بات سن کر ان میں سے ایک بڑھیا نے کہا: تیرا بھلا ہو! تجھے معلوم ہے تو کیا کہہ رہا ہے؟
کیا سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ نے تیرے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے؟
اور خود ہی اس کو تیرے گھر چھوڑنے بھی آ گئے ہیں؟

سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ تو وہ شخص ہے جس نے ولید بن عبدالملک کا رشتہ بھی قبول نہیں کیا تھا۔

میں اس کو ایسے دلہن بناؤں گی جیسے معزز عورتیں دلہن بنتی ہیں۔

میں نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن آپ آئیں اور دیکھ لیں کہ وہ لڑکی میرے گھر میں ہے۔ بہر حال ہمسائی عورتیں میرے گھر تو آ گئیں لیکن انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ میں سچ کہہ رہا ہوں۔
خیر انہوں نے آ کر اس کومرحبا کہا اور اس کا دل بہلایا۔
کچھ دیر بعد میری والدہ بھی آ گئیں، جب انہوں نے میری بیوی کو دیکھا…… تو مجھ سے کہنے لگیں:
جب تک میں اس کا بناؤ سنگار نہیں کر لیتی تو اس کے پاس نہیں جائے گا اور ایسا کرے گا تو میں تجھ سے ناراض ہو جاؤں گی۔ اور تیرا چہرہ نہیں دیکھوں گی۔
میں اس کو ایسے دلہن بناؤں گی جیسے معزز عورتیں دلہن بنتی ہیں۔
میں نے کہا: آپ جو چاہتی ہیں کر لیں۔
میری والدہ نے تین دن اس کو اپنے پاس رکھا، اس کا بناؤ سنگار کیا پھر دلہن بنا کر میرے پاس بھیجا۔
میں نے اسے دیکھا تو حسن و جمال میں مدینہ کی عورتوں میں سے سب سے زیادہ خوبصورت، کتاب اللہ کی سب سے بڑی حافظہ، حدیث رسول کی سب سے بڑی عالمہ اور حقوق زوج سے سب سے بڑی باخبر عورت پایا۔
وہ کچھ روز میرے ساتھ میرے گھر میں رہی. لیکن اس دوران میں نے اس کے باپ یا کسی اور گھرفرد کو نہیں دیکھا۔

وہ تو ایسا شخص ہے جس نے اپنی دنیا کو آخرت کی سواری بنا رکھا ہے۔

پھر ایک روز میں مسجد میں شیخ کے حلقہ میں گیا۔انہیں سلام کیا، انہوں نے سلام کا جواب دیا اور مزید کوئی بات نہ کی۔
جب لوگ چلے گئے اور میرے علاوہ وہاں کوئی نہ رہا تو پوچھا:
”ابووداعہ! آپ کی بیوی کا کیا حال ہے؟“
میں نے کہا: وہ ایسے حال میں ہے جس کو دوست تو پسند کرتا ہے مگر دشمن کو وہ ناگوار گزرتا ہے۔(یعنی وہ خوش ہے)۔
یہ سن کر شیخ نے کہا: الحمد للہ۔
میں گھر پہنچا تو دیکھا کہ شیخ نے ہمیں ایک اچھی خاص رقم بھیجی ہے تا کہ ہم اسے زندگی میں خرچ کر سکیں۔
یہ قصہ سن کر عبدالملک کے بیٹے نے کہا: اس کا معاملہ عجیب ہی ہے۔
شہزادے کا یہ جملہ سن کر مدینہ کا ایک آدمی بولا:

جناب اس میں عجیب و تعجب والی کیا بات ہے؟
وہ تو ایسا شخص ہے جس نے اپنی دنیا کو آخرت کی سواری بنا رکھا ہے۔
اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے اس فانی زندگی کے عوض باقی و پائیدار زندگی خرید رکھی ہے۔

”میری بیٹی میرے پاس اللہ کی ایک امانت ہے اور میں نے جو کچھ کیا ہے…… اس کی خیر و فلاح کے لیے کیا ہے۔“

اس نے اپنی بیٹی کا رشتہ امیر المومنین کے بیٹے کو دینے سے اس لیے انکار کیا تھا کہ وہ اس کا ہم پلہ نہیں ہے بلکہ انہیں خوف تھا کہ بیٹی فتنہ میں مبتلا ہو جائے گی۔
ان کے کسی دوست نے ان سے کہا تھا:
آپ امیر المومنین کی طرف سے پیغام نکاح کو مسترد کر کے ایک عام مسلمان سے بیٹی کا نکاح کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ تو سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ نے جواب میں کہا:
”میری بیٹی میرے پاس اللہ کی ایک امانت ہے اور میں نے جو کچھ کیا ہے…… اس کی خیر و فلاح کے لیے کیا ہے۔“
تو کہا گیا: یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا: ”ذرا و ہ منظر نگاہ میں لائیے جب یہ بیٹی……  محلات میں جاتی…… فاخرانہ لباس اور آراستہ و پیراستہ گھر میں چلتی پھرتی…… خدمت گار دائیں بائیں اور آگے پیچھے اس کی ناز برداری کے لیے حاضر ہوتے۔
ذرا غور کیجئے! سوچئے! اس کے بعد بھی وہ اپنے آپ کو خلیفہ کی بیوی سمجھتی؟
اس روز اس کے دین کا کیا بنتا؟“
یہ ساری گفتگو سننے کے بعد ایک شامی نے کہا: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمہارا یہ آدمی سارے لوگوں سے منفرد و نادر خصوصیات رکھتا ہے۔

اس پر مدنی نے کہا: تو نے ہمیشہ سچی بات کہی ہے، یہ بھی سچ کہا ہے۔

سعید بن مسیب قریش کی جس عورت سے چاہتے شادی کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ کی بیٹی کو تمام عورتوں پر ترجیح دی۔

یہ شیخ (سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ) صائم النہار اورقائم اللیل ہیں۔ انہوں نے چالیس حج کئے ہیں۔
اور چالیس سال کے دوران مسجد رسول  میں ان کی تکبیر اولیٰ کبھی فوت نہیں ہوئی. پہلی صف میں بیٹھنے کی وجہ سے کسی کو معلوم نہیں کہ اس عرصہ میں انہوں نے نماز کے اوقات میں کسی شخص کی گدی (گردن کا پچھلا حصہ) دیکھی ہو۔
اس شخص کا معاملہ تو یہ بھی ہے کہ وہ قریش کی جس عورت سے چاہتے شادی کر سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ کی بیٹی کو تمام عورتوں پر ترجیح دی۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ کا رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق تھا۔ ان کی روایات و احادیث بھی بہت ہیں اور خود انہیں حدیث اخذ کرنے کا بے بہا شوق بھی تھا۔
سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ نے انتہائی چھوٹی عمر میں خود کو حصول علم کی نذر کر دیا تھا۔وہ ازواج النبی رضی اللہ عنہن کی خدمت میں گئے اور ان سے احادیث اخذ کیں۔
وہ زید بن ثابتؓ، عبداللہ بن عباس رضی ؓ اور عبداللہ بن عمر رضوان علیہم اجمعین کی شاگردی میں رہے۔
انہیں عثمان ؓ، علی ؓ اور صہیب ؓ جیسے صحابۃ رسول رضی اللہ عنہم کی صحبت وسنگت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا اور وہ ان کے اخلاق سے آراستہ اور ان کے شمائل سے پیراستہ ہوئے۔

وہ ایک جملہ اکثر دہراتے حتیٰ کہ یہ جملہ ان کا معمول بن گیا تھا، وہ کہتے تھے:
”اللہ کی اطاعت کی مانند بندوں کے لیے کوئی اعزاز نہیں اور اس کی معصیت کی مانندان کے لیے کوئی رسوائی نہیں۔“

تحریر: ابو علی عبدالوکیل

 

اگر آپ شان صحابہ پر اشعار یا مزید اسلامی تاریخ کے واقعات پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.