براؤزنگ ٹیگ

the history of islam in urdu

آخرت کی سواری ۔۔۔ سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ

عبدالملک بن مروان ؒ نے بیت اللہ کا حج، حرم مدینہ کی زیارت اور رسول اللہ پر درود و سلام پیش کرنے کا ارادہ کیا۔ ماہ ذیقعدہ شروع ہوا تو خلیفہ نے اپنی سواریاں تیار کر لیں اور سرزمین حجاز کی جانب روانہ ہو گئے، ان کے ساتھ امرائے بنی امیہ کے بڑے…

ہمارے حکمران ایسے نہیں ہوں گے….مئی سے مئی تک

مئی سے مئی تک الہی ہم پر رحم کر اور اپنی پناہ ہم پر دراز کر دے۔ الہی ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایسے نہیں ہوں گے۔ مگر کیا کریں اہل غرناطہ بھی اسی گمان میں مارے گئے تھے کہ ہمارے حکمران ایسے نہیں ہوں گے۔ جیسا ان کے دلوں میں دھڑکا تھا…

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے. تاریخ کے طالب علم کا ایک المیہ ہے۔ آپ اسے یوں سمجھ لیجیے کہ آپ ایک خوب صورت اور آرام دہ سلائیڈ پر سوار ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ اس کا اختتام ایک ایسی تاریک جگہ پر ہونے والا ہے جو زہریلے سانپوں اور مگرمچھوں سے بھری…

نیک دل خلیفہ حضرت عمر بن عبد العزيز

سیبوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور امیر المومنین یہ سیب مسلمانوں میں تقسیم کرتے چلے جا رہے تھے۔ ایک چھوٹے سے بچے نے ایک سیب اٹھایا اور کھانے لگا۔ امیر المومنین نے یہ سیب بچے کے منہ سے چھین لیا۔ بچہ روتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور اپنی ماں سے جا کر…

سقوط اندلس

ابو البقاء الرندی سقوط اندلس پر لکھتے ہیں کہ زمانے بیت جائیں گے ۔۔۔۔ مگر اندلس کے سقوط کا المیہ بھلایا نہیں جا سکے گا مسلمان اسے کبھی نہیں بھولیں گے شاید الرندی اس قوم کی کیمسٹری نہیں سمجھتے تھے۔ یا پھر وہ قوم مسلم پر تازیانہ برسا رہے…

اندھیری شب کا چراغ امام احمد بن حنبل

دو قیدی مختلف منزلیں وہ دونوں قیدی تھے  مگر ان کی منزلیں مختلف تھیں۔ ایک کودربار خلافت میں پیش ہونا تھا اور دوسرے کوعدالت میں ۔ناگہاں دوسرا قیدی چیخا”رک جاؤ! مجھے اس شخص سے ایک ضروری کام ہے.“ سپاہی ٹھہر گئے۔  چند لمحوں بعد پہلا قیدی…

غرناطہ کا مدرسہ یوسفیہ

غرناطہ کا مدرسہ ی����سفیہ صدیوں سے قبلہ رو کھڑا ہے۔ کسی کے انتظار میں یا شاید اس گمان میں کہ اس کے قریب کوئی اپنا بھی موجود ہے۔ جیسے کوئی اپنا کسی قریبی کو دفن کرنے کے بعد اس کی تربت پر اس گمان میں کھڑا ہو کہ قبر میں موجود جسم کو یہ احساس رہے…

الحکم ثانی اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب

الحکم ثانی اپنے والد عبد الرحمن ثالث کی وفات کے بعد اکتوبر 961 کو تخت نشیشن ہوا۔ الحکم ایک مفکر تھا اسی لیے وہ جنگ و جدل سے گریز کرتا تھا اور علم دوست حکمران تھا۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عبد الرحمن ثالث صرف جنگوں کا باشاہ تھا۔ بلکہ…