محبت کا اک آسماں میری ماں

ماں کی شان میں کلام

3 603
محبت کا اک آسماں میری ماں
مری جنتوں کا نشاں میری ماں
وہ ریشم سا لہجہ وہ میٹھی زباں
وہ چاہت کا اک جذبہ ِبیکراں
میرا درد جس کی نظر میں سدا
مجسم رہا صورت ِزخم ِجاں
مگر اپنی تکلیف کے واسطے
کبھی نہ ہوئے اس کے آنسو رواں
میرے واسطے موم ہے مامتا

صبر کی ہے لیکن چٹاں میری ماں

محبت کا اک آسماں میری ماں
مری ذات کے گنبدوں میں رہی۔۔۔
ہمیشہ ہی مثل ِاذاں میری ماں
مری ہر خطا پر تھا اک درگزر
وہ تلقین اور حوصلہ سربسر
ہر اک میری ٹھوکر پہ میرے لیے
سہارا تھی ان انگلیوں کی پکڑ
یہ دنیا کی تپتی ہوئی ریت پر
میں بھٹکا مسافر وہ تنہا شجر
میں تاریک راہ پر چلا تو لگا
دعاؤں کی ہے کہکشاں میری ماں

 

میری عظمتوں کی وہ معمار ہے
قوی جسم اور سوچ بیدار ہے
مری نصرتوں کی جو رفتار ہے
اسی کی محبت کا اظہار ہے
ہر اک خشک موسم کا دیکھو ذرا
ہر اک وار اب کیسے بیکار ہے
کبھی بھی وہ میرے گلستان پر
نہ آنے دے رنگ ِ خزاں میری ماں

 

وہ جس نے مجھے سبق اول دیا
اور معبود ِبر حق سے واقف کیا
وہ دین ِمحمد کا اک اک سبق
مجھے کتنی چاہت سے اس نے دیا
ہمیشہ کی قربت کی خواہش لیے
مجھے جس نے خود سے جدا بھی کیا
مری ذات کے گنبدوں میں رہی
ہمیشہ ہی مثل ِاذاں میری ماں

 

مجھے روشنی کا سبق جب دیا
اندھیروں میں پھر نہ بھٹکنے دیا
زمانے کی تپتی ہر اک دھوپ سے
کیا مجھ کو واقف نہ جلنے دیا
مجھے دوڑنا اس نے سکھلا دیا
ہر اک چوٹ پر حوصلہ بھی دیا
میری زندگی کی ہر اک راہ پر
ہر اک موڑ پر ضوفشاں میری ماں

 

محبت کا اک آسماں میری ماں
مری جنتوں کا نشاں میری ماں

 

شاعری سلیم اللہ صفدر

 

اگر آپ مزید ماں کی شان میں کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

 

 

 

3 تبصرے
  1. […] آپ  ماں کی شان میں کلام یا بیٹی کی عظمت پر شاعری پڑھنا چاہیں تو یہ لازمی […]

  2. […] آپ  ماں کی شان میں کلام یا بیٹی کی عظمت پر شاعری پڑھنا چاہیں تو یہ لازمی […]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.