غرض جس کا مقاصد پہ آ کر رکے ۔۔۔اس رفاقت سے مجھ کو پناہ چاہئے|دعا اردو شاعری

urdu poetry on dua

0 17

غرض جس کا مقاصد پہ آ کر رکے
اس رفاقت سے مجھ کو پناہ چاہئے
جس محبت سے دل کو جراحت ملے
اس محبت سے مجھ کو پناہ چاہئے

 

دل پہ دستک غموں کی رہے عمربھر
ایسی الفت سے مجھ کو پناہ چاہئے
زیست ہر لمحہ خوشیوں کو تکتی رہے
ایسی چاہت سے مجھ کو پناہ چاہئے

 

روبرو وہ رہیں چہرے غمگین ہوں
ایسی سنگت سے مجھ کو پناہ چاہئے
لب پہ ہم یاد ہوں دل میں نفرت رہے
‏ایسی عزت سے مجھ کو پناہ چاہئے


ظاہرا دین پہ باطنا میں ریا
اس عبادت سے مجھکو پناہ چاہئے
جن کی راہ پر چلیں، خود وہ گمراہ ہوں
اس اطاعت سے مجھ کو پناہ چاہئے

 

ہمسفر ایسے جو مثل رہزن رہے
اس رفاقت سے مجھ کو پناہ چاہئے
جو رکاوٹ رہے میری منزل تلک
اس سیاست سے مجھ کو پناہ چاہئے

 

جن کی چاہت سے ہم دور رب سے رہیں
انکی رغبت سے مجھ کو پناہ چاہئے
ابن صادق یہ سر رب کے آگے جھکے
باقی ذلت سے مجھ کو پناہ چاہئے

 

غرض جس کا مقاصد پہ آ کر رکے
اس رفاقت سے مجھ کو پناہ چاہئے
جس محبت سے دل کو جراحت ملے
اس محبت سے مجھ کو پناہ چاہئے

شاعری: ذوالقرنین ابن صادق

اگر آپ مزید مناجات، حمدیہ اشعار، نعت شریف یا  شان صحابہ پر کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

شکستہ دل ہوں میرے الہی ۔۔۔تو اپنے در کی گدائی دے دے | رب سے دعائیں التجائیں 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.