غمِ زندگی اب خوشی چاہتا ہے تعفّن میں پاکیزگی چاہتا ہے | خوبصورت اردو شاعری

Urdu poetry beautiful | Urdu poetry ghazal

2 30

غمِ زندگی اب خوشی چاہتا ہے
تعفّن میں پاکیزگی چاہتا ہے

خیالات کی ایک مجبور دنیا
اندھیرے میں ہے روشنی چاہتا ہے

یہ کیوں آجکل میرا دل بھی مرے ہی
خیالات سے دشمنی چاہتا ہے

یہ بستی میں کس نے نئی روح پھونکی
کہ پاگل بھی اب آگہی چاہتا ہے

بھٹکنے کا خدشہ نہیں ہے کسی کو
مگر کارواں رہبری چاہتا ہے

چمن باغباں کا جو مرجھا گیا ہے
وہ ہر پھول میں تازگی چاہتا ہے

تعلّق بنا عارضی مشکلوں سے
اسی سے یہ دل دائمی چاہتا ہے

تصوّر کی دنیا سے باہر نکل کر
حقیقت بھری بے خودی چاہتا ہے

غمِ زندگی اب خوشی چاہتا ہے
تعفّن میں پاکیزگی چاہتا ہے

شاعری :زرینہ زرین

اگر آپ اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

ظلمتِ شب ہے چاروں طرف کیا کروں | اردو شاعری

2 تبصرے
  1. dyskont online کہتے ہیں

    You are in reality a excellent webmaster. This site loading velocity
    is amazing. It kind of feels that you are doing any unique trick.
    Also, the contents are masterpiece. you have done a great process on this matter!

    Similar here: zakupy online and also here: Tani
    sklep

  2. binance Отваряне на профил کہتے ہیں

    Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.