فرصت جو میسر ہے تو اب ڈھونڈ رہا ہوں | اداس اردو شاعری

best urdu poetry sad | urdu poetry sad 2 lines

2 36

فرصت جو میسر ہے تو اب ڈھونڈ رہا ہوں
میں تیرےبچھڑنے کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں

جب سے ہے سنا نسل کی تاثیر کا قصہ
اک شخص کا میں شجرہ نسب ڈھونڈ رہا ہوں

اس آنکھ میں کچھ درد کئی خواب پڑے ہیں
اس بھیڑ میں اک نقش_طرب ڈھونڈ رہا ہوں

اک شخص بھی مل جاۓ تو کافی ہے مُجھے دوست
ویسے تو میں بچھڑے ہوۓ سب ڈھونڈ رہا ہوں

وحشت کا تقاضہ ہے سو ناراض نہ ہونا
میں جسم کوئی بہر_طلب ڈھونڈ رہا ہوں

ٹکڑوں میں بٹی ہے تری تصویر زمیں پر
اور میں کہیں ان میں پڑے لب ڈھونڈ رہا ہوں

ممکن ہے کہ مل جائے کوئی دُر زُغال سے
تجھ گفتگو میں رنگ_ادب ڈھونڈ رہا ہوں

وہ حال_غریبی ہے کہ احباب بھی گُم ہیں
اور ایسے میں اعجاز میں رب ڈھونڈ رہا ہوں

فرصت جو میسر ہے تو اب ڈھونڈ رہا ہوں
میں تیرےبچھڑنے کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں

جب سے ہے سنا نسل کی تاثیر کا قصہ
اک شخص کا میں شجرہ نسب ڈھونڈ رہا ہوں

شاعری: احسن اعجاز

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

ے کسوں کو بےسبب بےموت مرتا دیکھنا | اداس اردو شاعری

2 تبصرے
  1. ecommerce کہتے ہیں

    Wow, awesome blog layout! How long have you been running a
    blog for? you made running a blog look easy. The full glance of your website is great, as smartly as the content!
    You can see similar here sklep

  2. sklep online کہتے ہیں

    A person necessarily help to make critically articles I might state.
    That is the very first time I frequented your website page and up to now?
    I amazed with the analysis you made to make this actual publish amazing.
    Excellent activity! I saw similar here: Sklep
    internetowy

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.