جانوروں اور پرندوں کا شکار اور اس میں حلال و حرام کی پہچان

Hunting birds in Pakistan

5 93

اللہ رب العزت نے یہ بہت خوبصورت رنگوں سے مزین کائنات بنائی اور وہ خوب جانتا ہے کہ اس رنگوں میں کیسے اعتدال رکھنا ہے۔ اس نے جہاں انسانوں کیلئے پھل،سبزیاں،پرندے چرندے پیدا کئے وہیں ان پرندوں چرندوں کی خوراک کا بھی بندوبست کیا ہے۔  پرندے گھاس پھوس و کیڑے مکوڑے کھا کر جیتے ہیں
جب کیڑے مکوڑے زیادہ ہو جائیں تو فصلوں کی بربادی ہوتی ہے اور حضرت انسان کو نقصان ہوتا ہے۔  اسی لئے اللہ تعالی نے ان کیڑے مکوڑوں کو کھانے کے لئے پرندے اور حشرات بنائے اور ان پرندوں کی بہتات اور کمی بھی فصلوں کا نقصان کرتی ہے
اگر پرندے زیادہ ہیں اور حشرات کم تو فصلوں کا نقصان اور اگر حشرات زیادہ ہیں اور پرندے کم تو بھی فصلوں کا نقصان اور فصلوں کا نقصان مطلب اشرف المخلوقات انسان کی خوراک میں کمی
سو اسی لئے رب نے توازن برقرار رکھنے کیلئے شکار کو حلال کیا ہے

شکار حصول گوشت کے لئے روز اول سے ہی جاری ہے

جیسے انسان جانوروں اور پرندوں کا شکار کرتا ہے ایسے ہی پرندے چرندے بھی شکار کرتے ہیں۔  اور شکار کرنا ہر بندے کے بس کی بات نہیں۔  شکار حصول گوشت کے لئے روز اول سے ہی جاری ہے جس کے طریقوں میں دنیاوی ترقی کیساتھ بدلاؤ آتا گیا مگر ہر دور میں شکار کیا جاتا رہا ہے۔
سبزیوں پھلوں کے ساتھ گوشت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے اور خاص کر جنگلی گوشت زیادہ طاقت والا ہوتا ہے۔

بعض لوگ شکار کو حرام سمجھتے ہیں جو کہ غلط بات ہے جس کی دلیل اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے کہ شکار بلکل جائز اور حلال ہے

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے ایک خرگوش کو مرالظہران کے مقام پر بھگایا لوگ اس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے تھک گئے تو میں نے اسے پکڑ لیا اور لے کر حضرت ابو طلحہ کی خدمت میں حاضر ہو گیا انہوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی سرین یا دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیں، ان کا بیان ہے کہ کوئی شک نہیں کہ آپ نے انہیں قبول فرما لیا،
میں عرض گزار ہوا کہ اس میں سے کھایا؟ فرمایا کہ اس میں سے کھایا اور پھر فرمایا کہ اسے قبول فرما لیا تھا
بخاری، الصحيح

نیز قرآن کی یہ آیت شکار کی کھلی اجازت ہے

ترجمہ۔۔تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لئے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لئے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے انکو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کے چھوڑنے وقت) خدا کا نام لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

مطالعہ قران و حدیث نے ثابت کیا کہ شکار نا صرف حلال ہے بلکہ ہمارے اسلاف کی سنت بھی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء جناب امیر حمزہ رضی اللہ شکار کے شوقین تھے اور قبول اسلام کے بعد بھی شکار کرتے رہے ہیں

پاکستان میں پرندوں کا شکار  

اخلاقی طور پہ پرندوں کی نسل کشی سے بچاؤ کی خاطر پرندوں کے انڈوں سے بچے نکلنے تک یعنی بریڈنگ سیزن میں شکار نا کیا جائے اور پرندوں کی نایاب ہوتی نسلوں میں شکار کرنے کی حد مقرر کی جائے
اس ساری صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پاکستان کے تمام صوبوں میں محکمہ تحفظ جنگلی حیات (Wild Life Department) کا ادارہ موجود ہے جو مستند اسلحہ کے حامل شکاریوں کو شوٹنگ لائسنس جاری کرتا ہے جس کے تحت ہفتے میں ایک دن سے دو دن شکار کی اجازت دی جاتی ہے اور ہر شکاری کو پابند کیا جاتا ہے کہ وہ کس نسل کا پرندہ کتنی تعداد میں شکار کر سکتا ہے اگر شکاری وائلڈ لائف کے جاری کردہ قوانین کے مطابق شکار کا نقصان کرتا ہے تو اسے جرمانے اور قید کی سزا دی جاتی ہے

کونسا پرندہ،چرندہ حلال ہے اور کونسا حرام

قدرت کا نظام ہے ایک مادہ پرندہ ہر سال کئی انڈے دیتا ہے جس سے کئی نئے بچے جنم لیتے ہیں

راقم خود ایک شکاری ہے اور پرندوں کا شکار اور اس کے معاملات کو بخوبی جانتا ہے

جانوروں اور پرندوں کا شکار اور اس میں حلال و حرام کی پہچان
صحافی اور کالم نگار غنی محمود قصوری اپنی گن اور اس کے ساتھ شکار کئے گئے پرندے ساتھ

شکار میں سب سے زیادہ پیش آنے والا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ کونسا پرندہ،چرندہ حلال ہے اور کونسا حرام
سب سے پہلے تو وہ پرندے و جانور حرام ہیں جن کا نام لے کر اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا کہ یہ حرام ہیں تو وہ پرندے،چرندے ہر صورت حرام ہیں جیسے کہ سؤر،گدھا،چیل،کوا وغیرہ.
دوسرے وہ پرندے و جانور حرام ہیں کہ جن کا نام لے کر کہا گیا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے جیسے کوا،گدھ وغیرہ ان کا شکار کرنا تو حلال ہو گا بلکہ ان کا شکار کرنا باعث ثواب ہے مگر ان کو کھانا حرام ہے
اسی طرح کچھ پرندے ہیں جن کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ان کا شکار کرنا بھی حرام ہے جیسے کہ سورد نامی چڑیا جسے ممولہ بھی کہتے ہیں،ہدہد وغیرہ ان پرندوں میں حرام پرندوں والی نشانیاں نہیں مگر اس کے باوجود ان کا شکار کرنا ان کو کھانا حرام ہے کیونکہ اللہ رب العزت کا حکم ہے سو اس حکم کو ماننا ہم پہ فرض ہے

حدیث رسول میں ہے کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام کچلیوں والے درندوں اور ناخنوں والے پرندوں کو کھانے سے منع فرمایا ہے
مسلم، الصحيح، 3 : 1534

کچلی سے مراد وہ نوک دار نمایا دانت ہیں جس سے وہ جانوروں کا گوشت کھاتے ہیں حلال جانوروں میں یہ نہیں ہوتے اور( ناخنوں والے ) وہ پرندے ہیں جو پنجوں سے شکار کرتے ہیں وہ حرام ہیں اس کے علاوہ باقی پرندے حلال ہیں
ایک ماہر شکاری کو علم ہونا چائیے کہ کونسا جانور کچلی والا ہے اور کونسا پرندہ پنجے سے شکار کرتا ہے باقی اس کے علاوہ کچھ باتیں مشہور کی گئی ہیں کہ جس پرندے کی چونچ کوے جیسی ہو یاکہ جس کے پاؤں کے پنجے الٹے ہو یا جس کی رنگت فلاں قسم کی ہو وہ پرندہ حرام ہے تو یہ بات قطعاً حدیث سے ثابت نہیں بلکہ خود ساختہ منگھڑت باتیں ہیں
اسی طرح ایک ماہر شکاری کو علم ہونا چائیے کہ بریڈنگ سیزن کب شروع ہوتا ہے تاکہ اس سیزن میں شکار سے اجتناب کیا جائے
نیز حدیث رسول سے یہ بات ثابت ہے کہ حدود حرم اور حالت احرام میں شکار منع ہے
سو جب احرام حدود حرم میں باندھ لیا جائے یا غیر حدود حرم میں تو اس صورت میں شکار کرنا احرام باندھے شحض پر حرام ہو جاتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی علاقے میں احرام باندھ کر حج و عمرہ کیلئے نکلے

تحریر:  غنی محمود قصوری

جہالت کے تالے اسلام نے کھلوائے |ویجائنا کو تالے کس نے لگائے؟

5 تبصرے
  1. sklep online کہتے ہیں

    Wow, wonderful blog format! How lengthy have you been blogging for?

    you make blogging glance easy. The full glance
    of your site is fantastic, as smartly as the content material!
    You can see similar: e-commerce and here sklep online

  2. najlepszy sklep کہتے ہیں

    Hello, I think your website might be having browser compatibility issues.
    When I look at your blog site in Firefox, it looks fine but when opening
    in Internet Explorer, it has some overlapping.
    I just wanted to give you a quick heads up! Other then that, wonderful blog!
    I saw similar here: sklep and also here: najlepszy sklep

  3. dobry sklep کہتے ہیں

    I am really impressed with your writing skills as well as with
    the layout on your blog. Is this a paid theme or
    did you modify it yourself? Anyway keep up the excellent quality writing,
    it is rare to see a nice blog like this one these days.
    I saw similar here: Sklep internetowy

  4. Registrera کہتے ہیں

    Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you.

  5. GSA Verified List کہتے ہیں

    Hey there! Do you know if they make any plugins to help
    with SEO? I’m trying to get my blog to rank for some targeted keywords but I’m not seeing very good
    gains. If you know of any please share. Thank you! I saw similar art here: GSA Verified List

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.