ائے ہمدم مرے حرفِ اعجاز سن | قیدی دوست کے لئے نظم
poem about prison| قید پر اشعار
ائے ہمدم مرے حرفِ اعجاز سن
صبر کرنے والوں کا یہ راز سن
ہر اک شب کی قسمت میں ہے اک سحر
وہ نصر من اللہ کی آواز سن
تو رہ کر قفس میں بھی آزاد ہے
اسیر ِ خزاں تیرا صیاد ہے
بدست ِصبا ِچمن تیرا نام
یہ گلشن ترے دم سے آباد ہے
آئے ہمدم ترے ساتھ ہے اک جہاں
ہر اک آنکھ ہر دل میں تو ہے نہاں
قفس کے اندھیروں سے مت خوف کر
تری منتظر ہے صبح ِذو فشاں
ترے ہاتھ اگر قید ِآہن ہوئے
ترے حوصلے کچھ بھی نہ کم ہوئے
وہ دیکھو کہ بہتے ترے خون سے
وفا کے دئیے کتنے روشن ہوئے
ترا کیا بگاڑیں کفر کے مکر
کہ تجھ کو اگر ہو فقط رب کا ڈر
یہ کمزور کتنے ہیں دیوار و در
آئے قیدی قفس پہ ذرا غور کر
ہر اک دل کا ارماں مسرت ہو تم
کہ رنگ ِرخ ِاستقامت ہو تم
جسے خواب کہتا ہے دشمن مرا
مرے واسطے اک حقیقت ہو تم
مناجات ہیں رب سے تیرے لیے
ہر اک چشم ِگل نم ہے تیرے لیے
مرے رب رہائی عطا کر اسے
دعا ہے ہر اک لب پہ تیرے لیے
مرے رب امید ِسحر بخش دے
اسیروں کو سوز ِجگر بخش دے
عزم استقامت صبر بخش دے
دعاؤں کو رنگ اثر بخش دے
ائے ہمدم مرے حرفِ اعجاز سن
صبر کرنے والوں کا یہ راز سن
ہر اک شب کی قسمت میں ہے اک سحر
وہ نصر من اللہ کی آواز سن
شاعری : سلیم اللہ صفدر