بابائے قوم آئے تصور میں ایک دن

0 141

بابائے قوم آئے تصور میں ایک دن
کہنے لگے عجیب ہے یہ حالت ِوطن
دیکھا تھا ایک خواب جو اقبال نے کبھی
اس خواب کو عمل کا دیا ہم نے پیراہن
اس خواب کے لیے رہے مصروف رات دن
اس خواب کے لیے تھے کیے کس قدر جتن
اک ایک تنکا جوڑا تو پھر آشیاں بنا
خون جگر دیا تو بنی صورت ِچمن

 

بابائے قوم آئے تصور میں ایک دن

سوچا تھا آزمائیں گے اسلام کے اصول
اس سرزمیں پہ ہو شریعت رسول
اللہ کے دین کے لیے کوشش اگر رہی
اللہ کی مدد ہی سے ممکن ہے یہ حصول
ہر ایک چہرہ سن کے یہ اعلان کھل اٹھا
ہر ایک فرد نے یہ کیا نظریہ قبول
اک پاک گھر کے واسطے ہر دل نے کی دعا
اک پاک رات میں ہوا تحفہ ہمیں وصول
پھر ہجرتوں کے قافلے ایسے ہوئے رواں
انصار بن گئے میرے دھرتی کے سب جواں
چوما وطن کی مٹی کو ہر اک نے اس طرح
ماتھوں پہ مسکرا اٹھے سجدوں کے سب نشاں

 

وہ سوچتے تھے جی نہ سکے گا یہ ایک سال
حیرت سے دنگ رہ گئی ہر چشمِ دشمناں
محور ہر اک کے دل کا وہ پھر ایسے بن گیا
اک مرکزِ یقین تھا ملت کا پاسباں
تعبیر ِخواب کے لیے سترہ لگے تھے سال
تکمیل خواب کے لیے ستر گزر گئے
لٹتا رہا سسکتا رہا کیوں میرا چمن
دست شجر سے ٹوٹ کے پتے بکھر گئے
شاہ رگ چھڑائیں کیسے کہ ہیں ہاتھ پاؤں قید
کچھ زخم جسم کے تھے وہ روح میں اتر گئے
اسلام کے لیے تھا منظم کیا جنہیں
اسلام کے لیے وہی آپس میں لڑ گئے

 

بابائے قوم آئے تصور میں ایک دن

میں نے کہا بتائیے اب ہم کریں تو کیا؟
بے چین تو ضرور ہیں مایوس ہم نہیں
گرتے ہوئے کو تھامنے والا کوئی نہیں
ورنہ دوبارہ اٹھنے کے جذبے تو کم نہیں
بولے کہ پھر سے تھام وہی نسخہ کیمیا
وہ جس سے بڑھ کے اور کوئی بھی عزم نہیں
جس نظریے سے تم کو ملا ہے تمہارا گھر
اس نظریے سے زیادہ کوئی بھی بھرم نہیں

 

تعمیر ہو چکی ہے تو تکمیل کر ذرا
بنیاد پائیدار ہے چھت پائیدار رکھ
ہوتا ہے درد ہی تو کبھی زخم کی دوا
گر دل ہے بے قرار… اسے بے قرار رکھ
جا کر سناؤ قوم کو اقبال کا پیام
بانگ درا ہمیشہ سر رہگزار رکھ
"ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ”

شاعری :سلیم اللہ صفدر

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.