عین ممکن ہے کسی روز اٹھا لے تجھ کو | اداس اردو شاعری

نعمان شفیق کے قلم سے خوبصورت اردو غزل

0 20

عین ممکن ہے کسی روز اٹھا لے تجھ کو
زندگی چوک میں لا کر کے اچھالے تجھ کو

میں تو ناسور ہوں بڑھتا ہی چلا جاؤں گا
دم ہے کچھ تیرے مسیحا میں ,بچا لے تجھ کو

ایسے چالاک سے محتاط ہی رہنا اچھا
لا کے مصرف میں کہیں بیچ نہ ڈالے تجھ کو

شب کی تاریکی کو کیوں گالیاں بکتا ہے دوست
راس آۓ نہ اگر دن کے اجالے تجھ کو

تو تو چہرے کی سیاہی سے ڈرا بیٹھا ہے
میں دکھاؤں گا ابھی پیر کے چھالے تجھ کو

ان گنت بچوں کی ماں کیسے توجہ دے تجھے
زندگی کیسے بھلا گود میں پالے تجھ کو

ان کی آنکھوں پہ مرے جیسے کروڑوں قربان
کتنے خوش بخت ہیں ناں دیکھنے والے تجھ کو

عین ممکن ہے کسی روز اٹھا لے تجھ کو
زندگی چوک میں لا کر کے اچھالے تجھ کو

شاعری: نعمان شفیق

اگر آپ مزید ادس اردو شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.