تیری محفل سے پرے ہم نے جدھرجانا ہے

اداس دل کی گہرائیوں کی آواز ایک دکھی اداس شاعری

1 22

تیری محفل سے پرے ہم نے جدھرجانا ہے

بوئے گلناز نے ساتھ اپنے ادھر جانا ہے

 

بس اسی خوف سے پالے نہ تعلق ہم نے

اک نہ اک روز تو ہم کو بھی بچھڑ جانا ہے

 

ہم نے جانا ہے زمانے کو فقط پل بھر میں

نا سمجھ…! تونے اسے ایک نظر جانا ہے

 

چاند کیوں خوش ہے بھلا اپنی رفاقت پر آج؟

رات ڈھلتے ہی ستاروں نے بچھڑ جانا ہے

 

نہ پڑاؤ ہے کوئی اور نہ کوئی زادِ سفر

ہم نے اس دنیا کو چھوٹا سا سفر جانا ہے

 

دل کے یہ زخم طبیبوں سے نہ سنبھلے جائیں

تیرے زخموں نے تو کچھ دن میں سنور جانا ہے

 

اے حبیب آج بھی اکسائے گا دل مجھ کو مگر

سر جھکائے تیرے کوچے سے گزر جانا ہے

 

تیری محفل سے پرے ہم نے جدھرجانا ہے

بوئے گلناز نے ساتھ اپنے ادھر جانا ہے

 

شاعری: عبداللہ حبیب

 

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.