کٹ گئی ہے زندگانی ہم سفر کی آس میں| آس پر اشعار| sad poetry urdu

alone sad poetry in urdu | urdu poetry sad 2 lines | sad poetry | Urdu sad poetry

0 2

کٹ گئی ہے زندگانی ہم سفر کی آس میں
مر ہی جائیں گے کسی دن چارہ گر کی آس میں

طاقت پرواز جب سے چھین لی صیاد نے
رینگتے رہتے ہیں پنچھی بال و پر کی آس میں

کھا گئی سپنے غریبی اڑ گیا رنگِ شباب
در بدر پھرتے رہے ہم اپنے گھر کی آس میں

گھومتے ہیں لوگ شہرِ یار میں کاسہ لئے
کتنے چکر کاٹتے ہیں اک نظر کی آس میں

قد بڑھا تو اس نے بھی غیروں پہ سایہ کر دیا
جس کو سینچا عمر بھر ہم نے ثمر کی آس میں

اب تو پھاڑے کوئی بابر بزدلی کی چادریں
سو رہی ہے قوم کب سے دیدہ ور کی آس میں

مثلِ دیمک چاٹتا ہے مجھ کو تیرا انتظار
گر نہ جائے برق یہ دیوار در کی آس میں

کٹ گئی ہے زندگانی ہم سفر کی آس میں
مر ہی جائیں گے کسی دن چارہ گر کی آس میں

شاعری : بابر علی برق

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

If you want to read more sad poetry in Urdu please check

alone sad poetry in urdu | urdu poetry sad 2 lines | sad poetry | Urdu sad poetry

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.