صدق و صفا کی صورتیں دنیا میں اب نہیں | اداس شاعری

0 16

صدق و صفا کی صورتیں دنیا میں اب نہیں
ماتم کدہ کہو اسے بزمِ طرب نہیں

روتا ہے جس کو دیکھ لو دردِ فراق میں
کس کے نصیب میں یہاں فرقت کی شب نہیں

بخشش کے ہو چکے ہیں سبھی بند راستے
توبہ مِری قبول ہوئی جاں بلب نہیں

جس نے درخشاں کر دیا عالم کو نور سے
دل میں ہمارے آج وہ ماہِ عرب نہیں

مت جا دیارِ یار میں کاندھوں پہ سر لیۓ
جاتے دیارِ یار میں یوں بے ادب نہیں

لیتا ہے ان کا نام تو کردار بھی دِکھا
صدیقؓ ان کو مل گیا ایسے لقب نہیں

ہائے کہاں چلے گئے مشکل کشا سبھی
کیونکر نجات کا کوئی ملتا سبب نہیں

بابر اٹھا کے لے چلو تم زادِ آخرت
آتا وہاں پہ کام یہ نام و نسب نہیں

صدق و صفا کی صورتیں دنیا میں اب نہیں
ماتم کدہ کہو اسے بزمِ طرب نہیں

شاعری : بابر علی برق

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.