محمد کے طریقوں کو مسلماں بھول کر بیٹھے

امت مسلمہ کی زبوں حالی بیان کرتی ایک نظم

0 34

محمد کے طریقوں کو مسلماں بھول کر بیٹھے
در مولا کو چھوڑا ہے در شیطان پر بیٹھے

نہ ہے قرآن سے الفت نہ ہے خوف خدا دل میں
گناہوں میں مگن ہردم جہاں میں در بہ در بیٹھے

عراق و شام برما اور فلسطیں پر ستم دیکھو
یقیں رکھتے نہیں رب پر فرنگی سے ہیں ڈر بیٹھے

فقط گفتار کے غازی بنے پھرتے ہیں دنیا میں
سبھی کردار سے خالی ادھر بیٹھے ادھر بیٹھے

مسلماں آج دنیا میں ہوئے مغلوب ہرجانب
بہانے خون مسلم پر مسلماں ہی اتر بیٹھے

اٹھو اسلاف کی تاریخ دہراؤ ارے مسلم
جو اپنے دین کی خاطر لٹا جان و جگر بییٹھے

کہاں ایمان کا جزبہ کہ تین سو تیرہ کا لشکر
ہزاروں جن کے تلواروں سے ہی زیر و زبر بیٹھے

اٹھا شمشیر ہاتھوں میں پلٹ تقدیر امت کی
کہ اے سجاد ایماں کے عدو پھر سے ابھر بیٹھے

محمد کے طریقوں کو مسلماں بھول کر بیٹھے
در مولا کو چھوڑا ہے در شیطان پر بیٹھے

 

شاعری: حافظ سجاد احمد

 

اگر آپ مزید حمدیہ اشعار، نعت شریف یا  شان صحابہ پر کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.