کسی کے ساتھ کبھی میں بُرا نہیں کرتا

0 10

کسی کے ساتھ کبھی میں بُرا نہیں کرتا
بڑھا چڑھا کے بشر کو خُدا نہیں کرتا

خدا کے رحم و کرم سے بلائیں ٹلتی ہیں
وگرنہ آدمی دنیا میں کیا نہیں کرتا

وہ کیسے قربتِ رحمان پائے گا یارو
خیالِ غیر جو دل سے جدا نہیں کرتا

کسی بشر سے مرے یار بھیک مت مانگو
جو چھینتا ہے کبھی وہ عطا نہیں کرتا

زمانے بھر کی بلائیں جو مول لیتا ہے
وہ اپنے یار سے ہرگز دغا نہیں کرتا

قلندری کا مقام اب وہ پائے گا کیسے
دیارِ عشق میں جو انتہا نہیں کرتا

کسی کے ساتھ کبھی میں بُرا نہیں کرتا
بڑھا چڑھا کے بشر کو خُدا نہیں کرتا

شاعری : بابر علی برق

اگر آپ مزید مناجات، حمدیہ اشعار، نعت شریف یا  شان صحابہ پر کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.