اداس دل جب کبھی ہو میرا | اداس شاعری

ایممان کی تمنا لیکر دنیا کے رنج و غم میں پھنسے ایک انسان کے دکھی دل کی ترجمان شاعری

2 19

اداس دل جب کبھی ہو میرا
میں اپنے رب کو پکارتا ہوں
سکون پاتا ہوں اپنے دل میں،
مقدر اپنا سنوارتا ہوں

 

کڑکتی دھوپ اور تپتے صحرا
زبان خشک اور سراب لہجے
عبادتوں کے شجر کی نیچے
سکوں گی گھڑیاں گزارتا ہوں

 

خزاں کی زد میں ہے دل کا آنگن
نہیں ہے امیدِ ابرِ تازہ
بہارِ قرآں سے روح و جاں کی
ہر اک روش کو نکھارتا ہوں

 

اگر ہو رحمت کا ایک دھارا
تو میں بھی پا لوں کوئی کنارہ
فریبِ شیطان میں گھری ہے
جو دل کی کشتی سنبھالتا ہوں

 

گناہ کرتا ہوں جب کوئی تو
سکون کی چھاؤں اجاڑتا ہوں
سکونِ دل کی تلاش میں پھر
گناہ کی خواہش کو مارتا ہوں

 

نہ کان دھرتا ہوں وسوسوں پہ
نہ ڈگمگاتا ہوں راستوں پر
یقین کو روح و جاں میں بھر کر
فریب دل سے نکالتا ہوں

 

مجھے عطا ہو رضائے ربی
ہر ایک پل جستجو ہے میری
اسی لیے اپنے دل میں ہر پل
میں رب کی چاہت ابھارتا ہوں

 

اداس دل جب کبھی ہو میرا
میں اپنے رب کو پکارتا ہوں
سکون پاتا ہوں اپنے دل میں،
مقدر اپنا سنوارتا ہوں

شاعری : سلیم اللہ صفدر

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

2 تبصرے
  1. سید حبیب اللہ نوری کہتے ہیں

    بہترین کلام ہے اگر پی ڈی ایف میں یہ کلام مل جاتے تو اور اچھا ہوتا

    1. Saleem Ullah کہتے ہیں

      ویب سائیٹ کے واٹس اپ پر رابطہ کر لیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.