چلو کہ اب ہم جان دیں پر وار دیں

0 34

چلو کہ اب ہم جان دیں پر وار دیں
چھوڑ کے گھر جنتوں میں جا بسیں

 

فانی دنیا کی حقیقت جان لیں
ایک دھوکہ ہی تو ہے یہ مان لیں
ہاتھ میں جب ورق ِعالی شان لیں
اپنی خاطر جنتوں کے در کھلیں

 

جنتیں وہ حوریں اور غلمان سب
وہ محل وہ خیمے عالی شان سب
پورے دل کے ہوں جہاں ارمان سب
اس کی خاطر کیوں نہ جاں قرباں کریں؟

 

محفل ِشہدا، عزیز و یار بھی
ساتھ ہوں گے نبیوں کے سردار بھی
سب سے بڑھ کر رب کا ہے دیدار بھی
دوڑ کر ان جنتوں کی راہ لیں

 

عہد ِرفتہ کا ہر اک غم دور ہو
یاد عصیاں بھی جہاں کافور ہو
آنکھوں کی ٹھنڈک دلوں کا نور ہو
پوری ہو جائیں وہاں سب حسرتیں

 

چلو کہ اب ہم جان دیں پر وار دیں
چھوڑ کے گھر جنتوں میں جا بسیں

 

شاعری : سلیم اللہ صفدر

اگرآپ جنت کی خواہش پر لکھی گئی مزید شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.