جانے اب کس دیس میں ٹھہرے سچے جزبوں والے لوگ|

ابو فرقان، ابو صخر اور ابو جنید سلطان جیسے شہدا کے نام | دوستی پر شاعری

0 55

جانے اب کس دیس میں ٹھہرے سچے جزبوں والے لوگ
دل کی بستی میں جو کل تھے نیک نگاہوں والے لوگ

ہار کے دنیا کی ہر بازی رب کی جنت جیت گئے
اپنی نظر میں وہ کہلائے سادہ ذہنوں والے لوگ

آج کہاں وہ مل پائیں گے حرص و ہوس کی دنیا میں
اجلے لفظوں، سچی باتوں کی خیراتوں والے لوگ

ہر دل کی دہلیز پہ رکھ کے یادوں کا ہر ایک چراغ
اک دنیا روشن کر جائیں روشن چہروں والے لوگ

مر کر جینا جی کر مرنا ہم نے جن سے سیکھا تھا
دنیا کی نظروں میں وہ تھے پاگل رستوں والے لوگ

امت کے ہر اک غم کو جو اپنے دل پر سہتے تھے
ریشم لہجوں کے مالک تھے آہن سینوں والے لوگ

جنت کی راہوں پر نکلے اور نابینا کہلائے
آج ان راہوں کو تکتے ہیں بینا انکھوں والے لوگ

جانے اب کس دیس میں ٹھہرے سچے جزبوں والے لوگ
دل کی بستی میں جو کل تھے نیک نگاہوں والے لوگ

شاعری : سلیم اللہ صفدر

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.