دینی مدارس بمقابلہ عصری تعلیمی ادارے | اعتراض اور تنقید آخر کیوں ؟

ائے روز باطل پسند قوتوں کی طرف سے ہدف تنقید بننے والے دینی مدارس کا عصری تعلیمی اداروں سے موازنہ

0 89

بہت بحث ہوتی ہے، بہت لے دے اور تنقید ہوتی ہے دینی مدارس پر اور ان کی افادیت پر۔ کبھی ان کی فنڈنگ زیر بحث ہوتی ہے تو کبھی ان کا نصاب۔ کبھی ان فیکلٹی پر تنقید یوتی ہے اور کبھی ان کی رہائش پر۔
اور اعتراض ہے کیا؟
فقط اعتراض برائے اعتراض
کوئی ایسا حقیقی اعتراض موجود نہیں کہ جس کہ بنیاد پر مدارس کی گرفت کی جا سکے۔ صرف دینی مدارس سے خوف کھانے والے عناصر اور اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے ہماری اقدار کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش رکھنے والے عناصر ہیں جو کسی بھی طور مدارس کا وجود مٹانا چاہتے ہیں۔
آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ مدارس پر اعتراضات ہیں کیا اور ان کی حقیقت کیا ہے۔؟

1۔ فنڈنگ

سب سے پہلے بات کرتے ہیں فنڈنگ کی۔
دینی مدارس کو حکومت کی جانب سے کوئی فنڈنگ نہیں دی جاتی۔ صاحب حیثیت اہل خیر لوگ اپنے زکوۃ صدقات اور چندوں سے مدارس کا خیال رکھتے ہیں اور یہ مدارس ان چندوں سے نہ صرف بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کو تین وقت کا کھانا اور رہائش بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مدارس کے دشمنوں کے سینوں پر سانپ لوٹتے ہیں کہ ہر قسم کی سرکاری سرپرستی سے محرومی کے باوجود یہ مدارس کیونکر فعال ہیں اور عوام کی اتنی بڑی تعداد کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ آواز اٹھائی جاتی کہ سرکاری سرپرستی کے بغیر جو مدارس اتنے کامیاب ہیں، ان کو حکومت سے فںڈز فراہم کر کے زیادہ کامیاب بنایا جائے، برعکس اس کے عالمی ایجنڈوں پر اسلام کے خلاف کام کرنے والی قوتیں مدارس کو صدقات و زکوۃ کی مد میں ملنے والی امداد بند کر کے مدارس کو مفلوج کر دینا چاہتے ہیں۔

2۔ کوالٹی

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ دینی مدارس کی تعلیم کا معیار عصری تعلیمی اداروں کے مقابل بہت کم ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ سرکاری سکولوں کا تو بیڑا ہی غرق ہے، انھیں تو چھوڑئیے، معاشرے کے بہترین نجی اور نیم سرکاری سکولوں کا موازنہ کر لیجیے مدارس کے ساتھ
تین سال کا بچہ پلے گروپ میں داخل ہوتا ہے۔ پلے گروپ، نرسری، پریپ، ون سے لے کر دسویں تک اسے تیرہ سال لگتے ہیں۔ سولہ سال کی عمر میں وہ میٹرک کرتا ہے تو اس کے پلے کیا ہوتا ہے؟ ریاضی کے چند ناقابل استعمال فارمولے، فزکس کیمسٹری کے چند ناقابل عمل تعاملات، چپڑ چپڑ انگریزی اور پڑھنے لکھنے کی صلاحیت اور بس۔۔۔
جبکہ مدارس میں پانچ سال کی عمر میں داخل ہونے والا بچہ تین سال میں حفظ و ناظرہ کرنے کے بعد آٹھ سال میں درس نظامی کرتا ہے اور گیارہ سال میں اردو و عربی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت کے ساتھ قرآن حفظ کر چکا ہوتا ہے، عربی زبان سیکھ چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے بہت سے دیگر مسائل کو سمجھ چکا ہوتا ہے جن کا سکول کے بچے تصور بھی نہیں کر سکتے۔

دینی مدارس بمقابلہ عصری تعلیمی ادارے | اعتراض اور تنقید آخر کیوں ؟
آپ کے عصری جامعات سے فارغ التحصیل پوسٹ گریجویٹ نوجوان دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کے مقابل کچھ بھی نہیں۔

کسی سکول سے میٹرک کرنے والے بچے کا اگر مدرسہ سے فارغ التحصیل بچے کے ساتھ عملی زندگی کا مقابلہ کروا دیا جائے تو آپ کو علم ہوگا کہ سکول کا بچہ زبان درازی کے سوا کچھ نہیں جانتا۔
ازاں بعد۔۔۔۔۔
سکول کا بچہ دو سال میں انٹرمیڈیٹ کرتا ہے، چار سال میں گریجویشن کرتا ہے اور مزید دو سال لگا کر ماسٹرز ڈگری لیتا ہے۔ فرض کیجیے ماسٹر ان اسلامک سٹڈیز۔
اب ان اکیس سالوں میں اسلامک سٹڈیز میں ایک حکومتی امداد سے چلنے والے عصری ادارے سے ماسٹر کرنے والے نوجوان کو ایک مدرسہ سے گیارہ سال میں حفظ و درس نظامی کرنے والے کے ساتھ انھی کے مضامین میں ماسٹرز ان اسلامیات کرنے والے کے مقابل بٹھا کر مقابلہ کروائیے کہ کس کا علم بہتر ہے؟
یقیناً آپ کو حیرت کا چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگے گا یہ دیکھ کر کہ آپ کے عصری جامعات سے فارغ التحصیل پوسٹ گریجویٹ نوجوان دینی مدارس کے فارغ التحصیل علماء کے مقابل کچھ بھی نہیں۔
تو سوچیے، اصلاح کی ضرورت کس کو ہے؟
سوتیلے دینی مدارس کو یا سگے عصری جامعات کو؟

3۔ سلیبس

ایک اعتراض مدارس کے سلیبس پر بھی کیا جاتا ہے کہ تین سو سالہ پرانا کورس پڑھایا جا رہا ہے۔ اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔
میں اس اعتراض کا حامی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ سلیبس کو عصری ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہئیے۔ درسی کتب کے ساتھ ساتھ بچوں کو مدارس میں کوئی ایسا ہنر ضرور سکھانا چاہئیے جو انھیقں فراغت کے بعد بے روزگار نہ رہنے دے۔ لیکن یہ جو کچھ لوگ ڈنڈے لے کر مدارس کے سلیبس کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، ان سے میرا سوال ہے کہ تیرہ سال میں میٹرک کرنے اور مزید دو سال میں انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد آپ کے حکومتی اخراجات سے چلنے والے عصری اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والوں کے ہاتھ میں ایک سرٹیفیکیٹ کے علاوہ کیا ہوتا ہے؟
آپ کو مدارس سے فارغ ہونے والے بےروزگاروں کی بہت فکر ہے تو عصری اداروں سے فارغ ہونے والے ان بےروزگاروں کی فکر کیوں نہیں؟
آپ مدارس کے سلیبس کو تبدیل کر کے کار آمد بنانے کی تحریکیں چلا رہے ہیں تو حکومت کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کی اصلاح پہلے کیوں نہیں کر لیتے؟
کیا آپ واقعی مدارس سے مخلص ہیں؟ یا آپ کے پیچھے کوئی منفی قوت کارفرما ہے جس کے باعث مدارس آپ کی آنکھ میں خار کی طرح کھٹکتے ہیں؟

4۔ افادیت اور سائنسی ترقی

اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ مدارس نے سائنسی ترقی میں کون سا کردار ادا کیا ہے؟
اس سے زیادہ جاہلانہ اعتراض تو ہو ہی نہیں سکتا۔
دینی مدارس سمپل آرٹس لائن کے تدریسی ادارے ہیں، جیسے آپ کی ایجوکیشن، جیسے کامرس، جیسے ہسٹری، لائبریری سائنس، جیسے صحافت۔ کیا سائنسی ترقی میں مدارس کے کردار پر سوال اٹھانے والے آرٹس کے ان شعبوں سے فارغ ہونے والوں کو پکڑ کر پوچھیں گے کہ آپ نے کون سے راکٹ ایجاد کیے ہیں؟
یقیناً نہیں۔ تو پھر یہ سوال دینی مدارس سے کیوں؟
کیونکہ یہ سوال اٹھانے والے مخلص نہیں، منافق اور سازشی کردار ہیں۔
جبکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اربوں کے فنڈز کھانے والی ہماری سائنسی تعلیم گاہوں نے بھی آج تک سائنسی ترقی میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ ان کی کون سی پکڑ ہوئی ہے؟
ان کی اصلاح کر کے کار آمد بنانے کے لیے تحریکیں کیوں نہیں چلائی جاتیں؟

دینی مدارس بمقابلہ عصری تعلیمی ادارے | اعتراض اور تنقید آخر کیوں ؟
بیت السلام تلہ گنگ کے ہونہار طلبا نے ربوٹکس مقابلہ جیت لیا

5۔ غیر کارآمد افراد

اعتراض کیا جاتا ہے کہ مدارس سے ہر سال لاکھوں بے روزگار نکلتے ہیں جو معاشرے پر بوجھ بنتے ہیں۔
اس سوال پر میرا سوال ہے کہ اگر مدارس ان بچوں کو تعلیم نہ دیتے تو یہ بچے کہاں جاتے؟ کیا یہ مدارس سے غیر تعلیم یافتہ بچے معاشرے پر بوجھ نہ بنتے؟
کیا دینی مدارس نے انھیں کسی کار آمد فیلڈ سے کھینچ کر مدارس میں تعلیم دلوائی ہے؟
ہرگز نہیں، بلکہ مدارس بے بس اور نادار بچوں کو رہائش اور خوراک کے ساتھ بنیادی تعلیم فراہم کر دیتے ہیں۔ اب اگر کسی کے دل میں ان بچوں کے ساتھ واقعی ہمدردی ہے تو وہ انھیں ایڈوانس تعلیم دلوا کر کار آمد بنا دیں۔
علاوہ ازیں, مدارس کے دس سالہ بے روزگار سند یافتگان کا غم کھانے والوں نے کیا عصری درسگاہوں سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ، تو چھوڑئیے، انیس سال میں گریجویشن اور اکیس سال میں ماسٹرز کر کے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والوں کو روزگار بہم پہنچا دئیے ہیں؟
ذرا آنکھیں کھولیے۔ نوجوان آپ کی اعلی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے بائیکیا چلا رہے ہیں یا بریانی بیچ رہے ہیں۔ پہلے ان کا غم کھا لیجیے پھر مدارس پر تنقید کیجیے۔

6۔ رہائشی سسٹم

مدارس کے رہائشی سسٹم پر بوجوہ اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں۔ میں ان میں اصلاحات کا حامی ہوں۔ رہائشی تعلیم جہاں بھی ہو، دینی مدارس ہوں، عصری مدارس یا ہنری تعلیمی ادارے، ان میں خامیاں اور کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں۔ صرف دینی مدارس ہی نہیں، جدھر بھی رہائشی سسٹم ہو، اس پر مضبوط چیک اینڈ بیلنس رکھنا چاہئیے تاکہ کسی قسم کا بگاڑ پیدا ہونے کے امکانات کم سے کم ہوں۔
اور بگاڑ کس قسم کا، اور کہاں کم کیاں زیادہ، میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس موازنے میں پڑنا چاہئیے۔ سبھی ہمارے ادارے ہیں۔ حقیقت سبھی جانتے ہیں۔

7۔ مارپیٹ

ایک بہت بڑا اعتراض دینی مدارس میں بچوں کے ساتھ ہونے والی مار پیٹ پر ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ بچوں کو تعلیم کی جانب راغب رکھنے کے لیے کسی حد تک سختی ضروری ہے۔ تاہم بچوں کو جانوروں کی طرح مارنا پیٹنا بالکل درست نہیں۔ مدارس میں یہ کمزوری موجود ہے۔ اور اس کی وجہ اساتذہ کم اور والدین زیادہ ہیں جو بچوں کو مہتمم کے پاس چھوڑتے وقت کہتے ہیں کہ ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی۔ آگے کچھ اساتذہ بھی اس موقع کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی جہالت دکھاتے ہیں۔ یہ مار پیٹ بچے کی شخصیت کو مسخ کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس کی روک تھام بہت ضروری ہے۔ لیکن میں ایک بار پھر سب کی توجہ عصری اداروں کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ آج بھی بہت سے عصری تعلیمی اداروں میں مار پیٹ کی جاتی ہے۔ ثبوت کے لیے کسی بھی سرکاری سکول کا دورہ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں مارپیٹ کی ویڈیوز بھی بارہا وائرل ہو چکی ہیں۔

دینی مدارس بمقابلہ عصری تعلیمی ادارے | اعتراض اور تنقید آخر کیوں ؟
ایک سکول کے چند طالب علم استاد کے حکم پر مرغا بنے ہوئے

جبکہ اج سے چند سال قبل تک تمام سکولوں میں مارپیٹ بہت عام تھی۔ تمام اساتذہ کے پاس اپنے مخصوص ڈنڈے ہوتے تھے۔ میں نے 97ء میں ایک فوجی ادارے کے زیر انتظام سکول سے میٹرک کیا۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ ہر استاد کے پاس اپنا الگ ڈنڈا ہوتا تھا۔ بعض اساتذہ انھیں مولا بخش کہتے تھے۔ ایف ایس سی کے دوران ہمارے کالج کے دو پروفیسرز مار پیٹ کے لیے مشہور تھے جو سر راہ لڑکوں کو پکڑ کر دھلائی کر دیا کرتے تھے۔ اسی دور میں این سی سی ٹریننگ کے دوران دی گئی سزائیں بھی مجھے بخوبی یاد ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ اصلاحات ہوئیں۔ سکولوں سے مارپیٹ کلچر لگ بھگ ختم ہو گیا۔ تھوڑی سی توجہ سے یہ مدارس میں بھی ختم ہو جائے گا۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ مدارس پر مندرجہ بالا سوالات اٹھانے والے دراصل ہیں کون؟ وہ اصل میں چاہتے کیا ہیں؟ کیا وہ واقعی دینی مدارس کے ساتھ مخلص ہیں؟
تو ان سوالات کا جواب ہے کہ یہ سب سازشی کردار ہیں۔ ان لوگوں نے ستر سال سے اس ملک کا نظام یرغمال بنا رکھا ہے۔ ستر سال سے اس ملک کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور ہر طرح کی عیاشیوں میں مبتلا ہیں۔ اس کے باوجود وہ ملک کے لیے کوئی خاص کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ اپنی اس نااہلی کا ملبہ وہ پھر مدارس پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ اسی ملک کے وسائل ان مدارس کے خلاف استعمال کر کے انھیں نابود کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ حتی کہ بیرون ممالک سے بھی فنڈز لیتے ہیں تاکہ ان مدارس کے خلاف پروپیگنڈا کر کے عوام کو ان سے بدظن کر سکیں۔ بے حساب وسائل کے باعث یہ سازشی عناصر عوام اور مدارس میں دوریاں پیدا کرنے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہیں لیکن خوش قسمتی سے یہ تاحال اپنی نا اہلی کا ملبہ مدارس پر ڈالنے میں ناکام ہیں۔ عوام آج بھی جانتے ہیں کہ ملک کی بدبختی کے عوامل یہ لبرل قوتیں ہیں مدارس نہیں، جو ستر سال سے ملک کو برباد کرنے پر تلی ہیں اور اس مقصد کے لیے یہ بیرونی آقاؤں سے مدد لے کر کسی بھی حد تک جانے پر تیار ہیں۔

تحریر : امام صافی

پاکستان میں بچوں کی تربیت اسلام کے مطابق کیسے کریں ؟ ایک سوال اور اس کا جواب

بیت السلام تلہ گنگ کے ہونہار طلبا نے ربوٹکس مقابلہ جیت لیا

مدارس شریعت کی پہچان ہیں مساجد سکونِ دل و جان ہیں | دینی مدارس پر اشعار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.