دیں کا علم

مدارس کے متعلق ایک نظم

1 102

تھام کر اپنے ہاتھوں میں دیں کا علم
اپنے اسلاف کا ہم رکھیں گے بھرم

 

ان تمام علمائے کرام کے نام جنہوں نے قال اللہ اور قال رسول اللہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے وقت، معاشرے اور ماحول کی مناسبت سے اللہ اور اس کے رسول کا پیغام امت مسلمہ تک پہنچانے میں کسی بھی قسم کی کمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔  انتہائی محدود وسائل کے ساتھ امت مسلمہ کی رہنمائی کی۔ میں خود ایک گرتا پڑتا مسافر جس نے عشروں تک دین کو سمجھنے کے لئے لائبریرں کنگھال ماریں، بالآخر اسی چشمہ ہدایت سے رہنمائی حاصل کی۔

 

تھام کر اپنے ہاتھوں میں دیں کا علم
اپنے اسلاف کا ہم رکھیں گے بھرم
جب کیا دل میں اپنے فقط یہ عزم
رب کی نصرت ہمیشہ رہی ہمقدم

 

رب کے بندوں پہ جب تنگ تھی یہ زمیں
رب کی دنیا میں تھا اجنبی رب کا دیں
ہم نے دہرایا پھر قصہ ِاولیں
سعد و خالد، عبیدہ کا عزم و یقیں

 

اس چمن میں بدست ِخزاں ہم رہے
چاہے صحراؤں کے درمیاں ہم رہے
چاہے جتنے بھی بے خانماں ہم رہے
فصل اِیمان کے باغباں ہم رہے

 

رب کا قرآن سب کو سناتے رہے
نقش ِتوحید دل میں بٹھاتے رہے
چاہے جتنے بھی طوفان آتے رہے
اپنے جذبوں سے وہ مات کھاتے رہے

 

دوستو اب یونہی بڑھتے جائیں گے ہم
رب کا پیغام سب کو سنائیں گے ہم
رب کی راہ میں نہ اب ڈگمگائیں گے ہم
اپنا وعدہ ہے، رب سے نبھائیں گے ہم

 

شاعرئ: سلیم اللہ صفدر

 

 

معروف عالم دین، استاد محترم مفتی عبدالرحمن عابد صاحب اپنے عالم دین بیٹے اور اپنے شاگردوں کے ساتھ

 

1 تبصرہ
  1. […] تربیت کے ساتھ ساتھ اگر اپ علمائے دین اور حفاظ قراں کی تعریف مین اشعار پڑھنا چاہیں تو یہ […]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.