توشہ خانہ کے مالک ۔۔۔ پاکستانی سیاستدان

Corrupt politicians of Pakistan

6 15

آج  وفاقی حکومت نے2002 سے اب تک کا توشہ خانہ کے تحائف کا  تمام ریکارڈ پبلک کردیا۔

ریکارڈ کے مطابق پچھلے سال 2022 یعنی  میں توشہ خانہ میں 224 تحائف موصول ہوئے۔  2021 میں 116 ، 2018 میں 175 تحائف اور 2014 میں 91 ۔ اسی طرح 2015 میں 177 تحائف حکومتی ذمہ داران نے حاصل کیے۔

 

توشہ خانہ کا معنی

اردو لغت کے مطابق توشہ خانہ کا لفظ توشک خانہ سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ایسی جگہ جہاں مختلف اقسام کا سامان رکھاجائے. اپنی دوستی کو مستحکم کرنے کے لئے صدیوں سے سربراہان مملکت آپس میں مختلف  تحائف کا تبادلہ کرتے آرہے ہیں۔

پاکستان جیسے جمہوری ملک میں یہ انفرادی معاملہ نہیں۔ کیوںکہ یہ تحائف ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ انتظامی عہدوں کے باعث ملتے ہیں۔ اس لئے غیر ملکی سربراہان مملکت سے موصول ہونے والے تحائف کا باقاعدہ طور پر ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔

یہ تحائف جس جگہ جمع کرائے جاتے ہیں اسے توشہ خانہ کہتے ہیں۔

کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران ان تحائف کا اندراج کیا جاتا ہے اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔

اس کے بعد یا تو یہ  تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

ان تحائف میں عام طور پر مہنگی گھڑیاں، مخلتف ڈیکوریشن پیسز،سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت،  سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔

توشہ خانہ ریکارڈ

ریکارڈ میں پرویز مشرف،   یوسف رضا گیلانی ، شوکت عزیز، ، نوازشریف، راجہ پرویز اشرف اور عمران خان سمیت دیگر  کئی سیاستدانوں کے نام شامل ہیں۔ جبکہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور صدرعارف علوی کے توشہ خانہ کے  تحائف بھی  شامل ہیں۔ البتہ  اس سے قبل کی حکومتوں کا ریکارڈ ویب سائٹ پر اپلوڈ نہیں کیا گیا۔

چونکہ 2022ء میں دس ہزار روپے سے کم مالیت کے تحائف بغیر ادائیگی کے رکھنے کا قانون تھا اس لئے کم مالیت کے بیشتر تحائف  قانون کے مطابق وصول لرنے والوں  نے  بغیر ادائیگی کے ہی رکھ لیے ۔

پرویز مشرف کے تحائف

2004 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو ملنے والے تحائف کی  کل قیمت 65 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی گئی۔  2005 میں سابق صدر کوایک گھڑی ملی جس  کی قیمت 5 لاکھ روپے بتائی گئی۔  ان کو مختلف اوقات میں تحائف اور جیولری بکس ملے جو قانون کے مطابق رقم ادا کر کے رکھ لیے گئے۔

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے تحائف

2005 میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو ساڑھے 8 لاکھ روپے کی ایک گھڑی ملی۔ یہ گھڑی 3 لاکھ پچپن ہزار میں بیچ دی  گئی۔ اس کے علاوہ شوکت ترین نے سیکڑوں تحائف دس ہزار سے کم قیمت کے ظاہر کر کے بغیر ادائیگی اپنے پاس  رکھ لیے تھے

سابق وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی

سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی خانہ کعبہ کا ماڈل جو ان کو تحفے میں مال تھا اسے  وزیر اعظم ہاؤس میں ہی نصب کروا دیا

آصف علی زرداری

ریکارڈ کے مطابق  2008 میں  سابق صدرآصف علی زرداری نے پانچ لاکھ مالیت کی گھڑی ادائیگی کرکے خود رکھ لی ۔ جبکہ 26  جنوری2009 کو سابق صدرآصف علی زرداری کو دو BMW  گاڑیاں ملیں. ان گاڑیوں  کی مالیت پانچ کروڑ 78 اور دو کروڑ 73 لاکھ تھی۔ جبکہ ایک ٹویٹا لیکسز بھی ملی جس کی مالیت 5 کروڑ روپے تھی۔

وہ  تینوں گاڑیاں آصف زرداری نے دو کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی  کر کے خود رکھ لیں۔

یوسف رضا گیلانی

خانہ کعبہ کے دروازے کا  یک ماڈل دسمبر2009 میں ان کو تحفے میں ملا جو انہوں نے چھ ہزار روپے ادا کر کے خود  رکھ لیا.  اسی طرح  ایک جیولری باکس 21 لاکھ روپے کی  ادائیگی کر کے اپنے پاس  رکھ لیا۔

یوسف رضاگیلانی کے بھائی، بھابھی، بیٹے، بیٹی،بھانجے،مہمانوں اور ڈاکٹر نے بھی تحفہ میں ملنے والی گھڑیاں رکھ لیں۔

نواز شریف

نواز شریف اور انکی فیملی توشہ خانہ سے 75 تحائف گھر لے گئے۔ ان تمام تحایف کی  قیمت صرف 75 لاکھ روپے ادا کی۔ 

ان  میں نیکلس، بریسلٹ، واچز سمیت متعدد اشیاء شامل ہیں۔  نواز شریف کے بیٹوں نے بھی توشہ خانہ سے گھڑیاں حاصل کیں

 ایک عدد رولیکس گھڑی مالیت 11 لاکھ 85 ہزار، ایک عدد کلف لنکس مالیت 25 ہزار، 4 یادگاری سکے مالیت 15ہزار روپے تھی جو 2 لاکھ 43 ہزار روپے کے عوض حاصل کی گئیں۔ سابق وزیراعظم نوا زشریف نے ایک عدد گھڑی مالیت ساڑھے 7 لاکھ روپے تھی جو 1 لاکھ 48ہزار روپے میں خریدی۔  ایک عدد گھڑی مالیت 10 لاکھ 5 ہزار روپے ،دوپرفیومز پر مشتمل بکس مالیت 1 لاکھ 60 ہزار روپے تھی صرف2 لاکھ 40 ہزار روپے میں حاصل کئے گئے۔

میاں نوازشریف کو ملنے والی مرسیڈیز کار کی کل مالیت 4,255,919 روپے لگائی گئی تھی۔ بیس اپریل 2008 کو سابق وزیراعظم نوازشریف نے تحفہ میں ملنے والی مرسیڈیزکار 636,888 روپے ادا کر کے رکھ لی۔

شاہد خاقان عباسی

2018 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو 2 کروڑ پچاس لاکھ مالیت کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی۔ جبکہ اپریل 2018 میں شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی کو 55 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔  اسی طرح شاہد خاقان کے ایک اور بیٹے نادر عباسی کو 1 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی تحفے میں ملی۔  یہ گھری 33 لاکھ 95 ہزار روپے جمع کروا کے انہوں نے  اپنے پاس رکھ لی۔

اسی سال وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کو 19 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی۔  علاوہ ازیں 2018 میں وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئر وسیم کو 20 لاکھ روپے مالیت کی گھڑی ملی، جو انہوں نے توشہ خانہ میں تین لاکھ  74 ہزار روپے جمع کروا کے اپنے پاس رکھ لی۔

سابق وزیر اعظم عمران خان

 ایک عدد ڈائمنڈ گولڈ گھڑی جس کی قیمت  ساڑھے8 کروڑ روپے، کلف لنکس قیمت 56لاکھ70 ہزار روپے، ایک پین مالیت 15 لاکھ روپے، ایک  انگوٹھی جس کی قیمت 87 لاکھ 5 ہزار ہے۔  یہ تمام چیزیں وزیر اعظم عمران خان نے 2 کروڑ ایک لاکھ 78 ہزار روپے میں خریدیں۔

مزید انہوں نے عود کی لکڑی سے تیارشدہ بکس اور2 پرفیوم مالیت 5 لاکھ روپے بغیر ادائیگی کے حاصل کیں۔ ایک عدد رولیکس گھڑی جس کی قیمت 15 لاکھ روپے تھی۔  وہ صرف2 لاکھ 94 ہزار روپے ادا کرکے حاصل کی گئی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک رولیکس گھڑی کے نو لاکھ روپے ادا کیے۔ ایک اور لیڈیز رولیکس گھڑی مالیت 4 لاکھ، ایک آئی فون مالیت 2 لاکھ 10 ہزار روپے ادا کیے۔ عمران خان نے دو جینٹس سوٹس مالیت 30 ہزار،4 عدد پرفیوم مالیت 35 ہزار،30 ہزار،26ہزار،40 ہزارروپے دئیے۔

ستمبر 2018 میں عمران خان  کے چیف سکیورٹی آفیسر رانا شعیب کو 29 لاکھ روپے کی رولکس گھڑی تحفے میں ملی۔  جبکہ 27 ستمبر 2018 کو سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 73 لاکھ روپے مالیت کے تحائف موصول ہوئے۔ یہ تحائفانہوں نے توشہ خانہ میں رکھوا دیئے تھے۔

صدر عارف علوی

صدر مملکت عارف علوی کو دسمبر 2018 میں 1 کروڑ 75 لاکھ روپے کی گھڑی، قرآن پاک اور دیگر تحائف ملے۔ جس میں سے انہوں نے قرآن مجید اپنے پاس رکھا اور دیگر تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیئے۔  اسی طرح دسمبر 2018 میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کو بھی 8 لاکھ روپے مالیت کا ہار اور 51 لاکھ روپے مالیت کا بریسلٹ ملا جو انہوں نے توشہ خانہ میں جمع کروادیا

توشہ خانہ  کے  تحائف پر  ہر وزیر اعظم  اور انکے اہل خانہ نے خوب  ہاتھ صاف کئے

جبکہ آصف زرداری، نواز شریف، پر نیب نے  توشہ خانہ کیسز دائر  کئے۔  جائیداد ضبطگی کے احکامات بھی جاری ہوے۔  آج کل عمران خان کے خلاف بھی توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد ہونے جا رہی ہے۔   لیکن ہمارے ہاں یہی اصول چلتا ہے کہ اگر فلاں وزیر اعظم نے توشہ خانہ لوٹا تو اس سے پچھلے نے بھی لوٹا ۔ ہر پارٹی کے کارکن اپنے اپنے رہنما کے توشہ خانہ تحائف کو ڈیفینڈ کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ 

 

 تحریر: حجاب رندھاوا

 

اگر آپ کرپٹ پاکستانی سیاستدانوں کی مزید کرپشن کے متلعق پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

6 تبصرے
  1. e-commerce کہتے ہیں

    Wow, marvelous weblog format! How long have you
    ever been running a blog for? you make blogging look easy.

    The entire look of your site is great, as smartly as the content material!
    You can see similar: sklep online and here e-commerce

  2. sklep internetowy کہتے ہیں

    I am not sure where you are getting your info,
    but good topic. I needs to spend some time learning more or
    understanding more. Thanks for magnificent information I was looking for this information for
    my mission. I saw similar here: ecommerce and also here: sklep internetowy

  3. sklep internetowy کہتے ہیں

    Asking questions are actually nice thing if you are not understanding something fully, but this paragraph gives
    nice understanding yet. I saw similar here: Ecommerce

  4. sklep online کہتے ہیں

    Hello mates, pleasant article and nice arguments commented
    here, I am actually enjoying by these. I saw similar here: Najlepszy sklep

  5. sklep online کہتے ہیں

    Howdy! Do you know if they make any plugins to assist with SEO?

    I’m trying to get my blog to rank for some targeted
    keywords but I’m not seeing very good gains. If
    you know of any please share. Many thanks! You can read similar art here: Najlepszy
    sklep

  6. Analytics and social research کہتے ہیں

    It’s very interesting! If you need help, look here: ARA Agency

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.