حشر کے روز میرے دل کو یوں قرار ائے
نظر اٹھے تو میسر تیرا دیدار آئے
میں زخم زخم سا پہنچوں جو روزِ محشر میں
لبوں پہ نعت سجے اشک بے شمار آئے
خدا کے اذن سے سایہ ہو اُن کی رحمت کا
مرے لئے بھی شفاعت کا اک حصار آئے
یہ پیاس صدیوں کی اک پل میں ختم ہو جائے
جب ان کے چشمۂِ کوثر پہ خاکسار آے
کہوں میں صَلِّ عَلىٰ بار بار کچھ ایسے
بلاوہ ایک نہیں مجھ کو بار بار آے
کہ جس نے طیبہ بنا ڈالا خاکِ یثرب کو
دیار روح میں کچھ ایسی اک بہار آئے
ایمان اور سکوں کی تمازتیں پائے
وہ ایک بار جو طیبہ میں دن گزار آے
درود پڑھتا رہوں میں سدا انہی پہ علی
میرے نصیب میں رحمت کی آبشار آئے
حشر کے روز میرے دل کو یوں قرار ائے
نظر اٹھے تو میسر تیرا دیدار آئے
یہ نعت ایک مسلمان کی محبت اور عقیدت کو بیان کرتی ہے کہ وہ اپنے پیارے نبی کے دیدار اور ان کی شفاعت کی کس قدر خواہش رکھتا ہے. بے شک آخرت میں اللہ کے نبی کا دیدار اور ان کی رفاقت ایک مسلمان کے لیے بہت بڑا انعام ہو گا. اسی انعام پانے کی خواہش میں شاعر نے اپنے الفاظ کو نعت کی شکل میں ڈھالا ہے
نبی آخر، عظیم و برتر رفیقِ انور، جلیل رہبر | نعت رسول مقبول
وہ ہیں خیرالبشر، وہ ہیں خیر الامم سرورِ دو جہاں محترم محترم…..!
رحمت ِ دو جہاں تاجدارِ حرم خاتم الانبیا میرے شاہِ امم | نعت شریف
تاجدارِ حرم، رب کا پیار آپ ہیں | خوبصورت اردو نعت شریف
صورت ہے لاجواب تو سیرت ہے لاجواب | نعت رسول مقبول
میں جب قرآن پڑھتا ہوں محمد یاد آتے ہیں | اردو نعت رسول مقبول
If you want to read more naat lyrics in Urdu, please visit
naat poetry in urdu | poetry for naat in urdu | poetry for naat | naat written in urdu | naat poetry in urdu text







