تو شاہ ِانبیا تو حبیب ِخدا

بارگاہ رسالت ﷺ میں عقیدت کے پھول |نعت شریف

3 60

تو شاہ ِانبیا تو حبیب ِخدا
تو مرا رہنما
تو ہے رحمت کا اک جاوداں سلسلہ

تیرا حرف سخن
تیرا اک اک ِاذن
میرے ہونٹوں سے نکلے
تو میرے لئے صدقہ جاریہ
میری فردوس کے راستوں کا پتہ

ٖ

تیرا حرف سخن
تیرا اک اک اِذن
میرے کانوں میں اترے
تو میرے لئے ایک حکم الہ
میری فردوس کے راستوں کا پتہ

میرے شاہ ِ امم
تیرا نقش قدم
میری ویران ہستی کی بنجر زمیں پر ہے رنگ ِارم
اور مری روح پر ایک ابر کرم

 

میری جنت کے در
رحمت کبریا کا جو ہیں اک ثمر
تیری نظر عنایت کے ہیں منتظر

الاماں کتنی شدت ہے اس پیاس کی
ان سے لپٹی ہے صدیوں کی افسردگی
یہ مرے سوکھے لب
پوچھتے ہیں یہ وحشت ختم ہو گی کب
اک فقط جام ِکوثر ہے ان کی طلب

دور کر دے جو دنیا کا ہر ایک غم
بھر دے ٹھنڈک دل و جاں میں رب کی قسم
بس اسی جام ِکوثر کی اک پیاس ہے
منتظر ہے نظر دل میں اک آس ہے

تو شاہ ِانبیا تو حبیب ِخدا
تو شاہ ِانبیا تو حبیب ِخدا
تو مرا رہنما
تو ہے رحمت کا اک جاوداں سلسلہ

تو نے ایمان کا مجھ کو ساتھی کہا
مجھ سے ملنے کی خواہش کو دل میں بسا کر
مرے واسطے
میری بخشش کی امید پر اپنے رب کو مناتا رہا
اشک چھپ چھپ کے یونہی بہاتا رہا
اور مری کم نصیبی
کہ یہ جان کر بھی
میں اپنے لیے
ہاں گناہ ہی گناہ بس کماتا رہا
کیوں بھلا اپنی دنیا جلاتا رہا؟

تیری سوچوں کا محور رہی ہے ہمیشہ ہی ہستی مری
کس قدر بے بھلا خوش نصیبی مری

ہاں مگر میں گریباں میں جھانکوں اگر
وہ گناہ جو کیے میں نے شام و سحر
وہ ستم جو کیے اپنی ہی ذات پر
مجھ کو آئیں نظر
دل میں سوچوں
کہ یہ کس قدر ہے بھلا
بدنصیبی مری

 

میری خوش قسمتی
میرے شاہ امم، میں ترا امتی
تیرے دم سے مری روح میں تابندگی
ہے یہ رب سے دعا کہ
میرے لب پر کھلتا رہے ہر گھڑی
بس درود ِنبی
تیرے احکام و سنت سے ہر دم مزین رہے زندگی

تو شاہ ِانبیا میں ترا امتی
میری خوش قسمتی

 

تو شاہ ِانبیا تو حبیب ِخدا
تو مرا رہنما
تو ہے رحمت کا اک جاوداں سلسلہ

اگر آپ مزید نعت شریف سننا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.