حشر کے روز میرے دل کو یوں قرار ائے نظر اٹھے تو میسر تیرا دیدار آئے میں زخم زخم سا پہنچوں جو روزِ محشر میں لبوں پہ نعت سجے اشک
written naat
جو کرتا ہے شہ دیں کی اطاعت زندگانی میں وہی ہے کامیابی میں وہی ہے کامرانی میں رسول اللہ کی ناموس پر قربان ہوتا ہے کوئی بچپن میں کوئی پیری
وہ ہیں خیرالبشر، وہ ہیں خیر الامم سرورِ دو جہاں محترم محترم.....! ان کے دیدار کی دل میں حسرت رہی ان کے اصحاب پر رشک ہے ہر گھڑی ان کے
مدینہ حاضری کو رب کی اعلی اک عطا کہیے دعاؤں میں ہمیشہ آپ پیاری یہ دعا کہیے رسول پاک کے قدموں پہ اپنی زندگی گزرے نبی جی کی رضا کو
رات گئے نعت سننے سنانے لگے ہم یوں اپنا مقدر جگانے لگے ان کی سرکار میں اپنا دل رکھ دیا جو نہ لگتے تھے وہ غم ٹھکانے لگے
تلوار لے کر آئے تھے میرے نبی اور خوشبو بن کے چھائے تھے میرے نبی تلوار کے سائے میں گزری زندگی رحمت مگر کہلائے تھے میرے نبی
نبی آخر، عظیم و برتر رفیقِ انور، جلیل رہبر شفیع محشر، وہ جام کوثر روح ِمعطر، رخِ ِمنور
سیرتِ مصطفیٰ روشنی روشنی جو نبی نے کہا روشنی روشنی جب سے آنے لگے سیّد الانبیاء تب سے غارِ حرا روشنی روشنی
ہجرت بھی ایک سنتِ خیر الانام ہے اللہ کے لیئے جو کرے خوش مقام ہے ہجرت رسولِ پاک نے کی رب کے حکم پر صدیق ان کے ساتھ تھے ان
بن کے آئے اس جہاں رہبر ، امام الانبیاء میرے آقا اور ہیں سرور ، امام الانبیاء وہ سراپا نور ہیں لیکن بشر ہیں بالیقیں وہ منور اور ہیں انور
Load More










