براؤزنگ ٹیگ

اداس نظم

دل کے خاک آلود کپڑے پر نکھار آنے لگا |اردو غزلیہ شاعری

دل کے خاک آلود کپڑے پر نکھار آنے لگا تھوڑا‌ تھوڑا اب تمہارا اعتبار آنے لگا کچھ دنوں سےاس کو شاید ہم سمجھ آنےلگے کچھ دنوں سے سنگ کو شیشے پہ پیار آنےلگا کون ہے جو بُت بنا دیتا ہے مجھ ذی روح کو کون ہے جو مجھ میں اب بے اختیار آنے لگا…

زندہ رہنا نہیں ہے مرنا ہے مجھ کو اک عہد سے مکرنا ہے|غزلیہ اردو شاعری

زندہ رہنا نہیں ہے مرنا ہے مجھ کو اک عہد سے مکرنا ہے اک تعلق بنے گا اور مجھے عمر بھر حادثوں سے ڈرنا ہے پھر ان آنکھوں پہ پڑ گئی نظریں میں نے سوچا تو تھا سدھرنا ہے اس نے لڑنا ہے بعد میں مجھ سے پہلے جی بھر کے پیار کرنا ہے تُو نے…

خار کو پھول کہہ کر دکھایا گیا رات کو بھی یہاں دن بلایا گیا| اداس اردو شاعری

خار کو پھول کہہ کر دکھایا گیا رات کو بھی یہاں دن بلایا گیا کس کو رودادِ غم میں سناؤں یہاں ہنسنے والوں کو کیسے رُلایا گیا باطلوں کی طرف سے ہر اک مرض کا زہر ہی نسخہءِ حق بتایا گیا جھوٹ کے آسماں پر مِرے دیس میں مصنوعی چاند پھر سے…

تو بتا دے کہاں جائیں سبھی ہارے ہوئے لوگ |اداس اردو شاعری

تو بتا دے کہاں جائیں سبھی ہارے ہوئے لوگ تیری دہلیز پہ دامان پسارے ہوئے لوگ وسعتِ شہرِ عدم بھی ہے یہاں صحرا بھی کس طرف جائیں ترے دل سے اتارے ہوئے لوگ قافلہ میں نے بنایا تھا کہ میرے ہیں سبھی مجھ پہ مشکل جو پڑی تو یہ تمھارے ہوئے لوگ…

نِظامِ زندگی سے ڈر گیا تھا | اردو غمگین شاعری

نِظامِ زندگی سے ڈر گیا تھا مَیں بس کچھ دیر اپنے گھر گیا تھا مُجھے یاروں کی صُحبت نے بچایا میں اُس کے بعد سمجھو مر گیا تھا ہمارے گھر گِرے ہیں ؛ پھر بھی چپ ہیں تُمہارے گھر تو اک پتھر گیا تھا زمیں پر سوگ برپا ہو گیا تھا سمندر…

اشک آنکھوں میں اپنی چھپائے ہوئے | اداس شاعری

اشک آنکھوں میں اپنی چھپائے ہوئے بیٹھے ہم رہ گئے مسکرائے ہوئے وہ تبسم کہ دل کی خوشی جس میں ہو! ایک عرصہ ہوا لب پہ لائے ہوئے سارا عالم ہی اب حَبْس میں گِھر گیا ہر سوں گہرے اندھیرے ہیں چھائے ہوئے کوئی کیسے قرار و سکوں میں رہے…

یوں محبت سے مجھے میرا جنوں دیکھتا ہے

یوں محبت سے مجھے میرا جنوں دیکھتا ہے جیسے اک باپ مَرَے بیٹے کا منہ دیکھتا ہے خوف و امید کی تخلیط سے تکتا ہوں تجھے سر کٹے جسم کو جوں کھولتا خوں دیکھتا ہے پہلے تصویر بناتا ہے کسی قبر کی پھر لکھ کے پہلو میں وہ " اٹھ یار میں ہوں "…

درندگی کا ہے جنوں سوار کس کمین پر؟

درندگی کا ہے جنوں سوار کس کمین پر؟ پڑے ہیں کیوں گلاب یہ لہو لہو زمین پر؟ امانتًا رکھا ہوا جو مال و زر ہڑپ گیا لگا رہا ہے تہمتیں وہ صادق و امین پر بیاں کروں میں کیسے شان ربِ ذوالجلال کی برس رہی ہیں رحمتیں جہاں کے غافلین پر نجومِ…