نِظامِ زندگی سے ڈر گیا تھا | اردو غمگین شاعری

3 31

نِظامِ زندگی سے ڈر گیا تھا
مَیں بس کچھ دیر اپنے گھر گیا تھا

مُجھے یاروں کی صُحبت نے بچایا
میں اُس کے بعد سمجھو مر گیا تھا

ہمارے گھر گِرے ہیں ؛ پھر بھی چپ ہیں
تُمہارے گھر تو اک پتھر گیا تھا

زمیں پر سوگ برپا ہو گیا تھا
سمندر مَیتَّوں سے بھر گیا تھا

میں گزرا خواب کیسے بھول جاؤں
وہ مُجھ سے ڈھیر باتیں کر گیا تھا

پرندہ پھر نہیں پلٹا ؛ جو چھت سے
اُٹھانے اپنا ٹوٹا پر گیا تھا

اُسے دیکھا تھا کل گھر سے نکلتے
مرا کل آج سے بہتر گیا تھا

نِظامِ زندگی سے ڈر گیا تھا
مَیں بس کچھ دیر اپنے گھر گیا تھا

شاعری: عرفان منظور بھٹہ

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

جن دنوں اپنے کوئی یار نہیں ہوتے تھے

3 تبصرے
  1. sklep کہتے ہیں

    Wow, wonderful blog structure! How long have you been running
    a blog for? you make blogging look easy. The overall glance of
    your web site is fantastic, as neatly as the content! You can see similar: ecommerce and here sklep

  2. dobry sklep کہتے ہیں

    What’s up, its fastidious piece of writing on the topic
    of media print, we all be familiar with media is a impressive source of
    data. I saw similar here: Dobry sklep

  3. GSA Verified List کہتے ہیں

    Hi! Do you know if they make any plugins to assist with
    Search Engine Optimization? I’m trying to get my blog to rank for some targeted keywords but I’m not seeing very good results.

    If you know of any please share. Cheers!
    You can read similar art here: GSA Verified List

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.