اداس شاعریمنہال زاہد سخی

محبتوں کے ادھورے قصے

محبتوں کے ادھورے قصے

کتاب دل پر رقم رہے ہیں ۔۔۔رقم رہیں گے

ترے بچھڑنے کے بعد ہم نے
بنائی کھڑکی ہے نئی نویلی
نیا بنانے کو کوئ منظر

پرانی تصویر اور منظر ؟

رکھیں گے شاداب کب تلک تک؟
بہار دیں گے؟
سنوار دیں گے؟
طویل جینے کو کوئی اک بھی عذر بہانہ تراش دیں گے ؟

مجھے ہیں خدشات گہرے لاحق__

پرانی تصویر اور منظر
گھٹن زدہ ، حبس سے بھرے ہیں
شگاف منظر میں حد بڑے ہیں
پرانی تصویر پھٹ رہی ہے
فریم کو زنگ جکڑ رہا ہے
بہار کا رنگ اکھڑ رہا ہے
ہماری سانسیں لرز رہی ہیں
تمہاری ہر یاد جھڑ رہی ہے

 

یہی وجہ ہے کہ چاہتا ہوں
نیا ہو منظر نئی ہوں آنکھیں
نئی ہو تصویر اور اس میں بس اک میں ہوں اور بنچ خالی
کسی پرندے کی چہچہاہٹ
عقب سے سائے کی ایک آہٹ
ہو کورے کاغذ کی پھڑپھڑاہٹ
مگر کبوتر نہیں ہو اک بھی

میں چاہتا ہوں بس اس وجہ سے
تمہیں نہ کوسوں کسی بھی جا پر
تمہیں نہ الزام دوں کسی کا
نہ تم ہو ملزم نہ کوئی مجرم
نہ دوش دوں حالتِ مضر کا
نہ آیتِ صبر کو پڑھوں میں
تری خطا کو کسی بیاباں کے بیچ میں دفن کر ہی دوں میں

مگر مری نظم پڑھنے والے
کسی نتیجے کی کھوج اندر
مجھے دیں الزام یا تجھے دیں
قصور اس میں مرا نہ ہوگا

وفا کے خوگر ، مجھے لکھیں گر
بری خطا سے ، قصور تیرا
تو اس میں میری خطا نہ ہوگی

محبتوں کے ادھورے قصے

قمیضِ یوسف کی شکل ہیں جو

کسی بھی صورت نہ پہنچ پائی تھی اپنے وارث کے آشیانے

محبتوں کے ادھورے قصے
اس ایک مکڑی کی مثل ہیں ، جو
نوالہ مینڈک کا جا بنی ہے
نگل لیا سانپ نے وہ مینڈک
وہ سانپ بھی چیل لے اڑی ہے

محبتوں کے ادھورے قصے
ہیں اس عجب مباہلے کی مانند
کہ جس میں دونوں فریق حق ہیں

محبتوں کی سزا تو ہوگی
محبتوں کی جزا نہ ہوگی

 

شاعری: منہال زاہد سخی

 

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

Shares:
5 Comments
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *