اس کا اک اذن ملے میرا گلا کھُل جاۓ | اداس اردو شاعری

best urdu poetry sad

0 9

اس کا اک اذن ملے میرا گلا کھُل جاۓ
کھُل جا سِم سِم وہ کہے اور صدا کھُل جاۓ

ہم سے ملنے میں نہ اتنی بھی خرد مندی دکھا
راز اتنا بھی نہ دنیا سے چھپا کھُل جاۓ

پھر محبت کی حقیقت کو جہاں سمجھے گا
سب کی آنکھوں پہ کسی روز خدا کھُل جاۓ

اک گھڑی اور نہ ہاتھوں کو گرا ممکن ہے
دستک_آہ سے وہ باب عطا کھُل جاۓ

آنکھ بینائی سے محروم ہوئی جاتی ہو
اور ایسے میں ترا بند قبا کھُل جاۓ

دوست آنکھیں تو ملا ، میری طبیعت سنبھلے
اپنے گیسو تو جھٹک تا کہ فضا کھُل جاۓ

اس کے سانسوں کی تپش، لمس کی خوشبو توبہ
جیسے اک دم سے گلابوں کی ردا کھُل جاۓ

میں اسی واسطے کچھ اس سے کھُلا تھا احسن
کہ مرے ساتھ وہ کم گو بھی ذرا کھُل جاۓ

اس کا اک اذن ملے میرا گلا کھُل جاۓ
کھُل جا سِم سِم وہ کہے اور صدا کھُل جاۓ

شاعری: احسن اعجاز

اگر آپ محبت پر مزید اردو شاعری پڑھنا چاہتے ہین تو یہ لازمی دیکھیں

رات میں دن کا جنم روز میں شب ممکن ہے|اردو شاعری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.