سفر کرنے والوں کی منزل قبر ہے

0 30

منزل قبر ہے۔ ہر انسان جو بھی اس دنیا میں آیا اس نے جلد یا بدیر چلے ہی جانا ہے اور اپنی قبر میں ہی جانا ہے۔ اگر نیک اعمال کریں تو قبر جنت کی کھڑکی بن جاتی ہے اور اگر برے اعمال کریں تو یہی قبر بچھو کا گھر ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھے۔

 

یہ دنیا ہماری تو بس اک سفر ہے
سفر کرنے والوں کی منزل قبر ہے

 

بظاہر تو مٹی ہے مدفن ہمارا
مگر نار یا نور ہی ہے سراپا
عمل پر ہمارے قبر کا ہے نقشہ
ہے جنت کی کھڑکی یا بچھو کا گھر ہے

 

غضب سے ہے زیادہ میرے رب کی رحمت
مگر اپنے دل میں نہیں خوف و عبرت
کبھی نیکیوں میں نہیں کرتے سبقت
گناہوں کی عادت ہمیں کس قدر ہے

 

اندھیروں میں بھٹکی ہے یوں میری ہستی
گناہوں میں لذت عبادت میں سُستی
ختم کر دے مولا میری سیاہ بختی
تو ہی رہنما اور تو ہی چارہ گر ہے

 

تہجد اور اذکار سے روح تر ہو
تلاوت سے روشن یہ شام و سحر ہو
نہ تاریک شب کا ہمیں کوئی ڈر ہو
چراغ محبت جو دل میں اگر ہے

 

بھڑکتی ہوئی آگ کو دور کر دے
میرے مولا میری قبر نور کر دے
میرے دل میں روشن وہی طور کر دے
میری روح جس کے لیے منتظر ہے

 

یہ دنیا ہماری تو بس اک سفر ہے
سفر کرنے والوں کی منزل قبر ہے

 

اگر آپ مزید حمدیہ اشعار، نعت شریف یا مناجات پڑھنا چاہتے ہیں تو  یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.