لبوں پر ہے مِرے جاری تِری حمد و ثناء مولا | حمدیہ اشعار

Hamd poetry in Urdu 2 lines | Hamd poem in Urdu

0 49

لبوں پر ہے مِرے جاری تِری حمد و ثناء مولا
نہیں کوئی تِرے جیسا مِرے مشکل کُشا مولا

تُو ہی خالق، تُو ہی مالک، تُو سب کا پالنے والا
عدم سے تُو نے ہی ہر چیز کو پیدا کیا مولا

تجھے نبیوں نے ولیوں نے مُصیبت میں پُکارا ہے
مصائب میں سبھی کا تُو فقط ہے آسرا مولا

ہے پھولوں کی مہک میں تُو پرندوں کی کی چہک میں تُو
ہٙر اک تخلیق میں تیری ہے وحدت کی صدا مولا

کبھی آتی خزائیں ہیں ، کبھی ہوتی بہاریں ہیں
ہر اک موسم ہے تیری ذات کا جلوہ نما مولا

جہاں کے ذرے ذرے میں ترے جلوے نمایاں ہیں
تری قدرت سے ہر اک شے میں ہے تیری ضیاء مولا

رکھا یونس کو مچھلی کے شکم میں تُو نے ہی زندہ
تُو جو چا ہے وہی کرلے یہ ہے تیری ادا مولا

مِرے ہر شعر میں مولا تری مدحت سٙرائی ہو
ہے مجھ اذلان کی تُجھ سے یہی اِک التجا مولا

لبوں پر ہے مِرے جاری تِری حمد و ثناء مولا
نہیں کوئی تِرے جیسا مِرے مشکل کُشا مولا

شاعری: اذلان الرحمان

اگر آپ مزید حمدیہ اشعار، نعت شریف یا  شان صحابہ پر کلام پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

خُدا کی عبادت سکوں ہی سکوں ہے| حمدیہ اشعار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.