بیت السلام تلہ گنگ کے ہونہار طلبا نے ربوٹکس مقابلہ جیت لیا

ٹیکنالوجی کا میدان جو مسلمانوں کا تھا اب دوبارہ بہت جلد اس کے اصل وارثوں کے ہاتھوں میں ہو گا ان شااللہ۔

3 286

مدارس کے طلبا میدان مار گئے…
جی ہاں! دو دن قبل بیت السلام تلہ گنگ کے مدرسے کے طلباء نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) میں منعقد ہونے والے 19 ویں نیشنل انجینئرنگ روبوٹکس مقابلہ (NERC) میں درجنوں کالجوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے حیران کن طور پر پہلی اور دوسری پوزینش حاص کی۔ اور اس طرح وطن عزیز میں مدارس کا سر فخر سے بلند کر دیا۔

عرصہ دراز سے پاکستان میں اسلام دشمن قوتوں اور ان کے چمچو���� نے دینی مدارس پر شکنجا کسے رکھا… مولوی اور عالم دین کو انتہائی محدود تنخواہ پر گزارا کروانے پر مجبور کرنے کے بعد مشہور کیا کہ یہ مولوی لوگ کسی کام کے نہیں. نہ ہی خود کچھ کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کچھ کرنے دیتے ہیں۔  کیونکہ ہر چیز کو دین میں حرام قرار دیتے ہیں. کسی ایک مولوی کی ذاتی غلطی،یا ذاتی بیان کو مشہور کر کے خوب مدارس کو بدنام کیا… اور ڈھنڈورا پیٹا کہ یہ مسجد مدرسے میں بند رہنے والے طلبا و علماء کسی کام کے نہیں انہیں مرکزی دھارے میں لایا جائے.

دینی مدارس اور ان کے طلبا مرکزی دھارے میں کیا آئے… مرکزی دھارے والوں کو ہی پیچھے چھوڑ گئے

اب دینی مدارس اور ان کے طلبا مرکزی دھارے میں کیا آئے… مرکزی دھارے والوں کو ہی پیچھے چھوڑ گئے. یعنی جن کے بارے میں کل تک مشہور تھا کہ یہ بیچارے دنیا میں ان فٹ ہیں، دنیا میں رہنا نہیں جانتے انہوں نے دنیا میں رہ کر سب کو بتا دیا کہ کون دنیا میں رہنے کے قابل ہے اور کون وسائل پر ناجائز قابض ہو کر مصنوعی قابلیت کا مظاہرہ کر رہا ہے.

 

بیت السلام تلہ گنگ کے ہونہار طلبا نے ربوٹکس مقابلہ جیت لیا
ہم ترقی کریں گے اور ان تمام شعار اور اپنی تہذیب و روایات کے ساتھ ہی کریں گے

جن کے بارے میں کل تک مشہور تھا کہ یہ ترقی کبھی نہیں کر سکتے کیونکہ اگر ترقی کرنی ہے تو شلوار قمیض داڑھی، ننگے ٹخنے چھوڑنے پڑیں گے… انہوں نے وہ سب کچھ اپنے ساتھ رکھ کر اپنے جسموں پر سجا کر بتا دیا کہ ہم ترقی کریں گے اور ان تمام شعار اور اپنی تہذیب و روایات کے ساتھ ہی کریں گے.

بیت السلام تلہ گنگ کے طلباء نے ربوٹکس مقابلے میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کر کے بتا دیا کہ ہم سینوں اور لبوں پر صرف قرآنی آیات و احادیث نہیں مزین کرتے بلکہ ہم ہر وہ کام کر سکتے ہیں اور بہترین انداز میں کر سکتے ہیں جس کی شریعت میں ممانعت نہیں.

بیت السلام تلہ گنگ کے ہونہار طلبا نے ربوٹکس مقابلہ جیت لیا
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر۔۔۔ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

انہی کے آباء نے ریاضی، طب، ارضیات، فلکیات کے میدانوں میں اس وقت کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جب سارا یورپ تاریکییوں میں ڈوبا ہوا تھا

کالجوں سے دینی مدارس کا جیتنا کوئی نئی بات بھی نہیں. یہی لوگ تھے جن کے آباء نے نیوٹن کی پسندیدہ کتابیں (الکیمی) لکھی تھیں… جنہوں نے ریاضی طب ارضیات فلکیات کے میدانوں میں اس وقت کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جب سارا یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا. جن کا علم و فن کبھی غرناطہ کے مساجد و مینار کے فن تعمیر میں جھلکتا ہے ، کبھی بغداد کے بیت الحکمہ میں اور کبھی سلجوقیوں کے جنگی کارناموں میں! یورپ کی یونیورسٹیوں اور لائبریریوں میں ان کی کتابیں آج بھی پڑھائی جاتی ہیں اور ریفرینس کے طور پر موجود ہیں.

مسلمان جب تک حکومت میں تھے انہوں نے سائنس ریاضی فلکیات طب میں کسی کو تحقیق و ترقی کرنے سے نہیں روکا لیکن جب ان کی حکومتیں گریں تو بغداد میں موجود سب سے بڑی مسلمانوں کی سائنسی لائبریری دریائے دجلہ میں بہا دی گئی. تا کہ کوئی دوبارہ ان کتابوں کو پڑھ کر طاقت حاصل کر کے ہمیں مغلوب نہ کر سکے. اسپین کی ساری کتابیں یورپ منتقل کر دی گئیں اور مسلمانوں کو اسپین میں ایک اقلیت کے طور پر رکھا گیا.

پاکستان میں عرصہ دراز تک علمائے دین کا معاشرتی، نظریاتی اور مالی استحصال کیا گیا

پاکستان میں عرصہ دراز تک علمائے دین کا معاشرتی، نظریاتی اور مالی استحصال کیا گیا… سکول کالج یونیورسٹی کے استادوں کے مقابلے میں عالم دین اور قاری صاحب کی تنخواہ محدود رکھی گئی تا کہ وہ بیچارہ اپنی ذات اور اپنی فیملی کے سروائیول کا ہی سوچتا رہے اور آگے بڑھ کر کوئی اسلام کی خدمت نہ کر سکے. مسجد سے باہر نکنے اور اللہ رب العزت کے پیغام کو آگے پھیلانے اور اسلام کی خدمت کرنے کے لئے اس کے پاس وسائل نہ ہوں اور معاشرے میں یہ بات پھیلائی گئی کہ وہ مسجد سے باہر نکلنا نہیں چاہتا۔

پھر اسی مولوی کے متعلق پروپیگنڈہ کیا گیا کہ اسے دنیا کا کچھ نہیں آتا اور یہ محدود سوچ کا مالک دنیا میں رہنے اور دنیا والوں کا مقابلے کرنے کے قابل نہیں. لیکن وہ جو کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور وہ ہر زمین پر نہیں چل سکتا. یہ جھوٹ بھی آج کھل کر سامنے آ گیا کہ اگر آپ مدارس کے طلبا کو بھی وسائل مہیا کریں… انہیں معاشی مجبوریوں سے آزاد استاد فراہم کریں  تو وہ نہ صرف سکولوں کالجوں کے طالب علموں کا مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ ان سے آگے بھی نکل سکتے ہیں. الحمدللہ.

جامعہ بیت السلام تلہ گنگ کے طالب علم  پہلے بھی  کئی مقابلوں  میں کالج کے اسٹوڈنٹس سے سبقت لے چکے ہیں 

دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ وہ تمام نیوز چینلز اور کالم نگار جو مدارس کے حوالے سے کسی بھی منفی بات سامنے آنے پر لمبے لمبے وی لاگز اور کالم للکھتے ہیں اور ثابت کرنے پر لگے ہوتے ہیں کہ مدارس جہالت کی فیکٹریاں ہیں ۔۔۔ اج اس صورتحال میں کہیں نظر نہیں آ رہے۔ ہاں یہ بات ہے کہ بھارت کے خلائی مشن چندریان کے حوالے سے کافی لوگوں نے بات کی اور اس چیز کو بنیاد بنا کر پاکستان پر تنقید کی کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے ہے  لیکن سکول کالجز کے مقابلے میں  مدارس کے طلبا کے حوالے سے خبر دینے کے لئے سب کو سانپ سونگھ چکا ہے۔ تنقید کرنا آسان ہے۔۔۔ تعریف یا تعمیر کرنا مشکل!

اس مقابلے نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ عصری میدانوں میں مقابلہ کرنے کے لیے نہ ہی ہمیں  اپنی تہذیب و روایات سے ٹکرانے اور اپنے شعائر ترک کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اپنی تہزیب و روایات کو اپناتے ہوئے کسی احساس کمتری کی ضرورت ہے۔  یاد رہے کہ جامعہ بیت السلام تلہ گنگ کے طالب علم  پہلے بھی  کئی مقابلوں  میں یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس سے جیت چکے ہیں۔

اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

تحریر :سلیم اللہ صفدر

عہد اسلاف ہے اک اثاثہ تیرا ۔۔۔۔عزم ِنو کے ہو تم ترجمانو اٹھو نوجوانو اٹھو 

3 تبصرے
  1. ذوالقرنین کہتے ہیں

    ہے ان کی شہادت اپنا فخر
    ہوا جس سے بلند اسلام کا سر
    ہے ان کا لہو اک رنگِ سحر
    ہر ایک افق پر جو چھایا

    محترم سلیم اللہ بھائی حضرت حسین رضہ اللہ عنہ کی شہادت ایک حادثہ کے طور پر ہوئی، یہ کوئی کفر اسلام کی جنگ نہیں تھی۔ ان اشعار سے یہ تاثر جا رہا ہے جیسے حضرت حسین کو کافروں نے شہید کیا۔ براہ کرم تصحیح فرمائیں ۔

    1. Saleem Ullah کہتے ہیں

      یہ تاثر آپ کے ذہن میں ہو گا میں نے کسی کو کافر نہیں کہا ۔ باقی جہاں تک بات ہے حادثے کی تو جتنی تاریخ میں نے پڑھی ہے یہی سمجھ آئی ہے کہ ان کے قاتل کسی صورت قابل معافی نہیں۔ حادثہ وہ ہوتا ہے جس میں قتل کرنے والے کی نیت شامل نہ ہو ۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان کے پورے خاندان کے گلے کاٹ کر انہیں شہید کرنے والے کوئی اسلام کی خدمت سرانجام دے رہے تھے۔ یا ان سے حادثاتی طور پر یہ سب ہوا۔ میں نہ کسی کی تکفیر کرتا ہوں اور نہ ہی اتنے بڑے سانحہ کو حادثہ قرار دے کر قاتلوں کو پروانہ جنت دے سکتا ہوں۔ جتنا کچھ میں نے شاعری میں لکھا ہے اتنا کچھ ہی سمجھتا ہوں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.