حشر کے روز میرے دل کو یوں قرار ائے نظر اٹھے تو میسر تیرا دیدار آئے میں زخم زخم سا پہنچوں جو روزِ محشر میں لبوں پہ نعت سجے اشک
naat with urdu lyrics
آپ کی ہی رحمت کا دو جہاں پہ سایہ ہے آپ کی اداؤں کو حرز جاں بنایا ہے آپ کی دعاؤں سے دل میں نور پایا ہے اور اس طرح
بے نظیر و پاکباز و معتبر آمنہ کے لعل سب کے راہبر چاند چہرہ، گیسوئے عنبر، شمیم مشک افشاں، دھوم جن کی ہر نگر ظلمتیں چھائی ہوئی تھیں چارسو اُنؐ
حسیں آقا سا دنیا میں کہیں چہرا نہیں ملتا مدینے کی فضا جیسا کہیں جلوا نہیں ملتا نظارہ شہر آقا کا انوکھا ہے جہاں بھر میں کوئی بھی سبز گنبد
پیارے نبی ہیں سارے زمانے کے واسطے رب نے چنا پیام سنانے کے واسطے قسمیں خدا اٹھاتا ہے قرآں میں دیکھ لو رفعت نبی کی سب کو بتانے کے واسطے
یہ محمد کا جو مدینہ ہے یہ تو اَنمول اک نگینہ ہے اور باتیں فضول باتیں ہیں آپ کی بات ہی خزینہ ہے
جیسے ہی یاد آئی ہے پیارے حضور کی دل پر بھی کیفیت ہوئی طاری سرور کی بعد از خدا بزرگ وہ دل جان سے یہ مان تم چھوڑ دو لڑائی
نظر میں میری نبی کا بسا دیار اب تک دوبارہ جاؤں یہی سوچ ہے سوار اب تک نرالا گنبد خضری بسا ہے آنکھوں میں کہ آ رہا ہے بہت مجھ
کتنا خوش بخت ہے وہ جس نے مدینہ دیکھا اپنی آنکھوں سے حسیں گنبدِ خضراء دیکھا عمر بھر اُس نے نہ پھر جلوہِ دنیا دیکھا جس نے اک بار دیارِ
انکی الفت کا دیا دل میں جلا رکھا ہے خود کو دیوانہ محمد کا بنا رکھا ہے جب بھی لیتا ہوں میں نام آپکا یوں لگتا ہے جام کوثر ہے
Load More










