جاں فدا ارض ملت پہ کر جائیں ہم | سانحہ 9 مئی پر لکھی گئی نظم

0 60

جاں فدا ارض ملت پہ کر جائیں ہم
تیر دشمن کے بھی سینے پہ کھائیں ہم
وار دیں ہم جوانی چمن کے لیے
فصل گل خوں پسینے سے مہکائیں ہم

 

غیر تو غیر اپنے بھی دشمن ہوئے
کتنے ویران اپنے نشیمن ہوئے
ہم بجھاتے رہے آگ اطراف کی
نذر آتش ادھر اپنے آنگن ہوئے

 

سرحدوں کی حفاظت ہمارا بھرم
قوم کی مسکراہٹ ہمارا عزم
ربط ملت میں پوشیدہ ہے زندگی
قوم کا ہر زخم ہے ہمارا زخم

 

قوم ہے پرسکوں ہم جو بیدار ہیں
اپنے دشمن سے لڑنے کو تیار ہے
راحت جاں ہمیں قوم کے حوصلے
درد پنہاں مگر قوم کے وار ہیں

پیار و الفت ہمارا رہے دوستو
جان و دل کا سہارا رہے دوستو
بیج نفرت کے بونے کا کیا فائدہ
فصل گل کا اشارہ رہے دوستو

 

جاں فدا ارض ملت پہ کر جائیں ہم
تیر دشمن کے بھی سینے پہ کھائیں ہم
وار دیں ہم جوانی چمن کے لیے
فصل گل خوں پسینے سے مہکائیں ہم

 

شاعری : سلیم اللہ صفدر

اگر آپ پاکستان کے متعلق مزید شاعری پڑھنا چاہتے ہین تو یہ لازمی دیکھیں 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.