کیا بزرگ علماء کو سوشل میڈیا پر آنا چاہیے؟

حافظ محمد زبیر صاحب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب

2 57

کیا بزرگ علماء کو سوشل میڈیا پر آنا چاہیے؟
جواب : علماء سے آپ کی کیا مراد ہے؟ اگر تو نوجوان علماء مراد ہیں کہ جو سوشل میڈیا کے دور کی پیدائش ہیں یا اس سے قریب کے زمانے کے ہیں تو انہیں ضرور سوشل میڈیا پر ہونا چاہیے اور یہ ایک دینی فریضہ ہے جو انہیں امت کی طرف سے ادا کرنا ہے۔ نوجوان علماء جو عرصہ دراز سے سوشل میڈیا پر ہیں تو وہ سوشل میڈیا کی حرکیات (dynamics) اور سماجی اثرات (social impacts) سے واقف ہو جاتے ہیں لہذا اگر چاہیں تو اپنے اس تجربے کی روشنی میں اس کا مثبت استعمال کر سکتے ہیں یعنی ایسا استعمال جو خیر پیدا کرے۔

لیکن ہمارے جو بزرگ علماء سوشل میڈیا کے دور سے پہلے (pre social media era) سے تعلق رکھتے ہیں تو انہیں سوشل میڈیا پر لانا بہت بڑی بے وقوفی ہو گی بلکہ دین ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔ سوشل میڈیا پر سب سے اہم یہ ہے کہ آپ نے کون سی بات، کب اور کیسے کرنی ہے۔ آپ یہ سالوں میں سیکھتے ہیں اور اہم بات یہ کہ غلطیاں کر کر کے سیکھتے ہیں۔ ایک نوجوان عالم غلطی کرے گا، لوگ نظر انداز کر دیں گے، یا کچھ عرصہ بعد بھول جائیں گے۔ لیکن آپ کے شیوخ غلطیاں کریں گے بلکہ بلنڈرز ماریں گے، آپ ساری زندگی وضاحتیں دینے میں گزار دیں گے۔ اور ان کی وہ غلطیاں نہ مٹنے والی تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔

سوشل می����یا پر دین کا کام تو ہو رہا ہے اور بہت ہو رہا ہے لیکن تخریبی (destructive) کام زیادہ ہے اور تعمیری (constructive) کم ہے

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ علماء سے عقیدت میں یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ وہ محض عالم کتاب وسنت ہیں۔ ہم انہیں بہترین سوشل سائنٹسٹ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور ایک اچھا سائیکالوجسٹ بھی۔ ہمارا بس چلے تو ہم یہ بھی ثابت کر دیں کہ وہ سقراط اور افلاطون سے کم فلسفی اور نیوٹن اور آئن اسٹائن سے کم سائنسدان نہیں ہیں۔ ہمارے علماء نہ تو سوشل سائنٹسٹ ہیں اور نہ ہی انہیں ہیومن سائیکالوجی اور سوشل فیبرک کی شد بد ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر آ کر بلنڈرز کریں گے الا ما شاء اللہ۔ اس لیے بزرگ علماء کو نہ تو سوشل میڈیا کا رستہ دکھانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی یہ وقت کا تقاضا ہے۔ وہ جس روایتی طریقے سے دین کا کام کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں، اسی پر ان کو مطمئن رہنے دیا جائے۔

اب رہی یہ بات کہ نوجوان علماء کیا سوشل میڈیا پر دین کا کام کر رہے ہیں؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دین کا کام تو ہو رہا ہے اور بہت ہو رہا ہے لیکن تخریبی (destructive) کام زیادہ ہے اور تعمیری (constructive) کم ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر جتنے علماء کی ضرورت ہونی چاہیے، وہ موجود ہیں، اور ہر طبقہ فکر سے موجود ہے۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ تعمیری (constructive) کام کم ہے۔ جو کوئی نواجون تعمیری کام کرنے کے لیے اٹھتا ہے تو نوجوان علماء رقابت، حسد اور دیگر جذبات سے معمور ہو کر اس کی ٹانگیں کھینچنے میں لگ جاتے ہیں یعنی نہ کوئی خود کام کرنا ہے اور نہ کسی کو کرنے دینا ہے۔ اس سے سوشل میڈیا کا یوزر علماء سے متنفر ہو رہا ہے اور دن بدن یہ نفرت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

یہاں کتنے ہیں جو ایک دوسرے کے کام کو ایپری شیئیٹ کرنے والے ہیں۔ ایک مذہبی شخصیت کے دو لوگ مخالف ہوتے ہیں، اور ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کا دینی فریضہ ہے کہ ہم نے فلاں کو رگڑ کر رکھ دینا ہے۔ صرف وہی دونوں ایک دوسرے کی تعریف میں رطب اللسان نظر آئیں گے، تو یہ تو کوئی ایپری سیئیشن نہیں ہے کہ ایک نے دوسرے کو رگڑ کر رکھ دیا، اب چونکہ جسے رگڑا ہے، وہ مجھے پسند نہیں، اس لیے رگڑنے والا بہت بڑا عالم دین ہے۔ اس اخلاقی گراوٹ کے ساتھ بزرگ علماء کا حلقہ سوشل میڈیا پر کیونکر اپنا کوئی مقام بنا پائے گا۔

یہاں سوشل میڈیا پر ایک عالم کو دوسرے کی طرف سے کوئی اخلاقی اسپورٹ نہیں ملتی، الا ما شاء اللہ۔

میں اگر یہاں ایک پوسٹ لگاوں کہ نیچے کمنٹس میں ایسی پوسٹوں کا لنک شیئر کریں کہ جس میں ایک عالم دین نے دوسرے کو رگڑا لگایا ہو، یقین مانیں کمنٹس ختم ہی نہ ہوں۔ اور اگر میں یہ پوسٹ لگاوں کہ نیچے کمنٹس میں ان پوسٹوں کا لنک لگائیں کہ کوئی ایک عالم دین، دوسرے کے علمی کام کی تعریف کر رہا ہو، تو آپ کو پوسٹیں ڈھونڈنی پڑیں گی۔ سوشل میڈیا پر موجود علماء کا اصل مسئلہ علم کا نہیں، اخلاق کا ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھ پائیں گے، یہاں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔ یہاں ایک عالم کو دوسرے کی طرف سے کوئی اخلاقی اسپورٹ نہیں ملتی، الا ما شاء اللہ۔

مجھے کئی دوستوں نے کہا کہ حافظ ابو یحیی نور پوری صاحب نے آپ کے خلاف ویڈیو لگائی ہے، آپ بھی جواب دیں۔ میں نے کہا، نہیں۔ دین کا نقصان ہو گا۔ لوگ اچھا تاثر نہیں لیں گے۔ ہر بندہ کہے گا کہ آپس میں لڑ پڑے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرے پاس جواب نہیں ہے۔ لیکن ہر بات سوشل میڈیا پر کہنا خیر پیدا نہیں کرتی۔ بعض اوقات صحیح بات کہنے سے خیر کی بجائے شر پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی حرکیات ہیں۔ ایک بہت بڑے عالم سے متعلق بعض طلباء نے ہمیں بتلایا کہ ہم نے انہیں سوشل میڈیا پر ایک بیان دینے سے روکنے کی بہت کوشش کی کہ حضرت اس کا فائدہ نہیں ہے لیکن حضرت پر جذبہ ایمانی غالب تھا اور انہوں نے وہ بیان ریکارڈ کروا کے نشر کروا دیا کہ جس سے خیر سے زیادہ شر پھیلا۔

آپ شیوخ کو میڈیا ہاوسز بنا دیں گے لیکن جب اپنے تجربے کی روشنی میں انہیں یہ بتلائیں گے کہ یہ بات کرنا درست نہیں ہے، یعنی اس پلیٹ فارم پر، تو ضروری نہیں کہ وہ آپ کی بات مانیں گے بلکہ یہ کہیں گے کہ کیا تم ہم سے بڑے عالم ہو؟ حالانکہ صحیح بات یہی ہے کہ آپ ان سے بڑے عالم ہی ہیں، یعنی سوشل میڈیا کے عالم آپ بڑے ہیں، وہ چھوٹے ہیں۔ لیکن یہ بات نہ علماء کو سمجھائی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کے اندھے معتقدین کو۔ تو برائے مہربانی یہ خیر کا کام نہ ہی کریں تو بہتر ہے کہ شیوخ علماء کو سوشل میڈیا کا رستہ دکھا دیں۔ اور نوجوان علماء جس طرح ایک دوسرے کے خلاف لگے ہیں، پھر آپ کے شیوخ بھی آپس میں شروع ہو جائیں۔

اللہ عزوجل شیخ عزیز شمس رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے لیکن مجھے بہت دکھ ہوا کہ ان کی ویڈیو شیخ ثناء اللہ زاہدی صاحب کے بارے وائرل ہو گئی۔ یہ سوشل میڈیا پر لانے والا موضوع ہی نہیں تھا کہ ایک بڑے شیخ، دوسرے بڑے شیخ پر اعلانیہ نقد کرتے۔ شیخ ثناء اللہ زاہدی صاحب کی بات ایک اعتبار سے درست تھی کہ احناف کا صحیح بخاری پر کافی کام موجود ہے۔ لیکن اس میں اگر کچھ سقم بھی تھا تو وہ ایک پرانا کلپ تھا کہ جسے چند ایک لوگوں نے ہی دیکھا تھا۔ لیکن شیخ عزیز شمس رحمہ اللہ کی نقد کے بعد وہ سب نے دیکھ لیا۔ اب وہ دونوں کلپ سوشل میڈیا کی زینت ہیں۔ اب آپ بیٹھ کر صفائی دیتے رہیں۔

اسی طرح ایک بہت بڑے اہل حدیث عالم دین نے ایک دوسرے صاحب تصنیف عالم دین کے بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے تو توحید الوہیت اور توحید ربوبیت کے فرق کا نہیں پتا اور اس نے توحید پر کتاب لکھ ماری ہے۔ اب یہ بات ویڈیو میں آ جائے تو کیا اثر ڈالے گی۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسے سوشل میڈیا ایمپیکٹ کہتے ہیں۔

وہ جرح وتعدیل تو کتابوں میں ہے کہ جسے کوئی کوئی پڑھتا ہے۔ لیکن جب آپ کے بزرگ علماء ایک دوسرے کی کلاس لینا شروع کریں گے، اور وہ بھی سوشل میڈیا پر، اور وہ بھی احقاق حق اور ابطال باطل کے خوشنما نعروں کے نام پر، تو دین کے نام خیر نہیں پھیلے گا بلکہ شر میں اضافہ ہو گا۔

آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے علماء ایسا نہیں کریں گے۔ تو آپ کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ علماء نے ہر دور میں ایسا ہی کیا ہے۔ اور دین بدنام ہوا ہے۔ جس نے کتابیں نہیں پڑھیں، اس کو تو آپ مطمئن کریں لیکن جس نے پڑھ لی ہیں، اس کے سامنے آپ دو منٹ بھی نہیں بیٹھ پائیں گے۔ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ بہت بڑے محدث ہیں لیکن حنفی رجحان رکھنے کی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ پر جرح کر جاتے ہیں اور ان پر شیعہ ہونے کی تہمت لگا جاتے تھے۔ وہ تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے انہیں سمجھایا تو کچھ رکے۔

امام مالک رحمہ اللہ، سیرت کے امام ابن اسحاق رحمہ اللہ کو دجال کہتے رہے۔ پیچھے تابعین میں چلے جائیں تو وہاں بھی آپ کو ایسی ہی صورت حال نظر آتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد نافع رحمہ اللہ سے کہا تھا کہ مجھ پر ایسے جھوٹ نہ باندھنا جیسا کہ عکرمہ رحمہ اللہ، عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ پر باندھتا ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ جیسے محدث کے کے ساتھ نیشاپور کے محدثین مثلا امام ذہلی رحمہ اللہ وغیرہ نے جو کچھ کیا، اسے بڑھ کر کوئی بندہ اذیت اور تکلیف سے ہی دوچار ہو سکتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی نیشا پور کے محدثین کی اسی اذیت دینے کے سبب وفات ہوئی تھی کہ امام بخاری رحمہ اللہ پر خلق قرآن کا قائل ہونے کی تہمت لگائی گئی تھی۔ اور امام بخاری رحمہ اللہ آخر عمر تک ان علماء کے بارے اللہ عزوجل سے فیصلے مانگتے رہے۔

بھئی ہمیں معلوم ہے کہ ان اقوال کیا جواب ہے، ہمیں نہ بتلائیں۔ ہم اس جرح سے متاثر بھی نہیں ہیں۔ صرف اتنی بات عرض کرنا مقصود ہے یہ کہ یہ سب جرح وتعدیل اور اسماء ورجال کی کتب میں لکھا ہے۔ اور بہت کچھ بھی لکھا ہے جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اس لیے بزرگ علماء کے ہاتھ میں سوشل میڈیا کا ٹول برائے مہربانی نہ تھمائیں، وہ جرح وتعدیل تو کتابوں میں ہے کہ جسے کوئی کوئی پڑھتا ہے۔ لیکن جب آپ کے بزرگ علماء ایک دوسرے کی کلاس لینا شروع کریں گے، اور وہ بھی سوشل میڈیا پر، اور وہ بھی احقاق حق اور ابطال باطل کے خوشنما نعروں کے نام پر، تو دین کے نام خیر نہیں پھیلے گا بلکہ شر میں اضافہ ہو گا۔

پہلی امتیں بعد والوں سے بہترین ہیں لیکن وہ بھی معاصرت کے مسائل سے اوپر نہ اٹھ پائے تھے تو معاصرین سے ایسی امید رکھنا عبث ہے۔ باقی نوجوان ایک دوسرے پر نقد کرتے ہیں، وہ بھی شر ہی ہے لیکن اس کو زیادہ تر لوگ سنجیدہ نہیں لیتے لہذا اس کا شر اتنا نہیں ہے جنتا بزرگوں کی ایک دوسرے پر تنقید سے پیدا ہو گا۔ جزاکم اللہ خیرا

تحریر: حافظ محمد زبیر

اگر آپ حافظ محمد زبیر صاحب کی مزید تحاریر پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

2 تبصرے
  1. dobry sklep کہتے ہیں

    You are truly a excellent webmaster. This web site loading speed is amazing.

    It seems that you are doing any distinctive trick.

    Moreover, the contents are masterwork. you have done
    a fantastic process on this matter! Similar here: zakupy
    online and also here: Tani sklep

  2. List of Backlinks کہتے ہیں

    Hey! Do you know if they make any plugins to help
    with SEO? I’m trying to get my site to rank for some targeted keywords but
    I’m not seeing very good gains. If you know of any please share.
    Cheers! You can read similar art here: Scrapebox List

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.