چلچلاتی زندگی میں سایۂ ابرِ کرم
والدینِ محترم ہیں والدینِ محترم
بے نشاں بے نام تھا میرا وجودِ خاک یہ
آج میرے واسطے قرباں کریں املاک یہ
عمر بھر محسن ہے میرا ان کا ہر نقشِ قدم
دھیرے دھیرے عمر جب انسان کی بڑھتی گئی
زندگی سے لاشعوری کی چمک گھٹتی گئی
جوں سکھایا تھا اٹھانا ننھے ہاتھوں کو قلم
اپنے منہ کا بھی نوالہ ہے کھلاتی ہم کو ماں
اپنی خوشیوں کو پسینے میں بہاتے بابا جاں
ان کو ہم سے ہے محبت ہم کریں کیوں ان سے کم
فکرِ دنیا چھوڑ کر ہر غم یہ لے لیں اپنے سر
اپنے بچوں کے لئے چنتے ہیں راہِ پُر خَطَر
ان کی کاوش ہے کہ ہم سے دور ہوں سارے ہی غم
ان کو فرصت ہے کہاں اک پل بِنا بچوں کے بھی
کر رہے قربان اپنی خواہشیں خوشیاں سبھی
ہے تمنا ان کی! بچوں کو ملے جاہ و حَشَم
گھر ہے جنت ان کے دم سے ان کی خدمت ہو عطا
ان کی ٹھنڈی چھاؤں ہم سے ہو کبھی بھی نہ جدا
ان کا سایہ دیر پا قائم رہے! ہو یہ کرم
قیمتِ دنیا و عقبٰی، پا ہی لیں گر مان لیں
ان کی جانب دیکھنا! ممنونؔ قیمت جان لیں
دیکھنا ان کی طرف، ہے دیکھنا مثلِ حرم
چلچلاتی زندگی میں سایۂ ابرِ کرم
والدینِ محترم ہیں والدینِ محترم
شاعری: مدثر ظفر ممنون
اگر آپ ماں کی شان میں کلام یا بیٹی کی عظمت پر شاعری پڑھنا چاہیں تو یہ لازمی دیکھیں