خوابوں میں بھی پورے نہ ہوئے خواب ہمارے | اداس شاعری
خوابوں میں بھی پورے نہ ہوئے خواب ہمارے
ہم لوگ تو خوابوں میں بھی قسمت کے ہیں مارے
بے صوت یہ لگتے ہیں سبھی شور شرابے
تنہائی میں خاموشی ہی چِلّائے پکارے
بھاری یہ بہت بوجھ ہے یادوں کا جگر پر
کیا ہے کوئی ہمدرد جو یہ بوجھ اتارے
من بھاتی فضاء اور یہ سب موسمِ باراں
دیتے ہیں یہ اک شخص کی قربت کے اشارے
کل تک کے جگر گوشہ تھے جن کے لیے اب ہم
بے وقعت و بے مایہ و بالکل ہیں بیچارے
تدبیر سے دانش تمہیں کچھ بھی نہ ملیگا
ٹوٹے ہوئے بکھرے ہیں مقدر کے ستارے
خوابوں میں بھی پورے نہ ہوئے خواب ہمارے
ہم لوگ تو خوابوں میں بھی قسمت کے ہیں مارے