خوابوں میں بھی پورے نہ ہوئے خواب ہمارے | اداس شاعری

5 141

خوابوں میں بھی پورے نہ ہوئے خواب ہمارے
ہم لوگ تو خوابوں میں بھی قسمت کے ہیں مارے

بے صوت یہ لگتے ہیں سبھی شور شرابے
تنہائی میں خاموشی ہی چِلّائے پکارے

بھاری یہ بہت بوجھ ہے یادوں کا جگر پر
کیا ہے کوئی ہمدرد جو یہ بوجھ اتارے

من بھاتی فضاء اور یہ سب موسمِ باراں
دیتے ہیں یہ اک شخص کی قربت کے اشارے

کل تک کے جگر گوشہ تھے جن کے لیے اب ہم
بے وقعت و بے مایہ و بالکل ہیں بیچارے

تدبیر سے دانش تمہیں کچھ بھی نہ ملیگا
ٹوٹے ہوئے بکھرے ہیں مقدر کے ستارے

خوابوں میں بھی پورے نہ ہوئے خواب ہمارے
ہم لوگ تو خوابوں میں بھی قسمت کے ہیں مارے

اگر آپ مزید ادس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.