ابر کرم۔۔۔ حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کے متعلق خوشگوار یادیں

استاد محترم حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی پرمزاح اور شاعرانہ طبعیت کو اجاگر کرتی ایک تحریر

1 201

جب کبھی بارش کا موسم ہوتا ہے تو کسی نہ کسی دوست کی وال پہ یہ شعر مل جاتا ہے
اے ابرِ کرم ذرا تھم کے برس
اتنا نہ برس کہ وہ آ نہ سکیں
جب آجائیں تو جم کے برس
پھر اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں
ایک تو شعر بذات خود دلچسپ معانی لیے ہوئے ہے۔ مگر اس سے زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ یہ شعر ہم میں سے بہتوں نے مرحوم حافظ (عبد السلام بن محمد بھٹوی) صاحب کی زبانی سنا ہے۔

عشق مجازی بھی تو ضروری نہیں کسی ہیومن کے ساتھ ہی ہو

ظاہر ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ایک مفسرقرآن اور حدیث کے استاد کی زبانی ہجر و وصال والے اشعار ذرا غیر معمولی لگتے ہیں۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اس دودھ میں بھی حسب دستور عشق حقیقی والی مینگنیاں نہیں ڈالنی چاہیے۔ عشق مجازی بھی تو ضروری نہیں کسی ہیومن کے ساتھ ہی ہو۔ بڑے لوگ اپنے کام اور فن سے عشق کرتے ہیں۔ اور میرا یقین ہے کہ حافظ صاحب کا شمار ضرور بڑے لوگوں میں ہوتا ہے۔

ہم نے یہ شعر حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب سے 2016 کے مون سون میں سنا تھا۔ حافظ صاحب فجر کی نماز کے بعد صحیح بخاری کے سبق کے لیے کلاس میں آتے تھے۔ گو کہ فجر کے بعد کا وقت ہر طالب علم کے لیے بڑا ب����جھل ہوتا ہے۔ لیکن اس سبق میں طلبہ کی بلا جبر حاضری حافظ صاحب کے ساتھ ان کی بے لوث عقیدت کا مظہر تھی۔ ہمارے جیسے بعض ایسے بھی تھے جنھیں ثقیل فقہی ابحاث میں کوئی بہت زیادہ دلچسپی نہیں تھی. لیکن پھر بھی وہ بڑے شوق سے چلے آتے کیونکہ اس درس میں انھیں شوارد کے علاوہ بہت کچھ مل جاتا تھا۔ حافظ صاحب رحمہ اللہ درس مکمل کرنے کے بعد کرسی سے اٹھ کر نیچے بیٹھتے اور ٹانگیں پھیلا دیتے۔ جس کے بعد لڑکے جھپٹ کر ان کے مسلز اپنی دسترس میں لے لیتے اور انھیں دباتے۔

ان کے ہاتھ دباتے وقت دل میں ایک  احساس برتری بھی ہوتا تھا کہ ہم ان ہاتھوں کی تھکاوٹ دور کر رہے ہیں جن کے ذریعے شیخ کا جاہ و جلال کاغذ پر منتقل ہوتا ہے

حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کبھی کرسی سے اتر کر فورا نیچے نہیں بیٹھے۔ وہ ہمیشہ کرسی سے اٹھ کر باہر کی جانب چل دیتے، پھر لڑکے فورا ان سے بیٹھنے کی درخواست کرتے اور حافظ صاحب بخوشی بیٹھ جاتے۔ یہ ان کی طبیعت کا خاصہ تھا۔ وہ تقدس اور تکلف سے بے حد پرہیز کرتے تھے۔ وہ علم ہونے کے باوجود طلبہ کی درخواست کا انتظار کرتے تاکہ خود کو احسان مندی کے بوجھ سے بچا سکیں۔

ہمارا فوکس حافظ صاحب کے ہاتھوں پر ہوتا تھا کیونکہ ہاتھ دبانا نسبتا آسان ہے جبکہ کاندھے، پنڈلیاں اور گردن دبانا لحیم شحیم بندے کا کام ہے۔ہمارے قُویٰ تو شروع سے مضمحل اور عناصر بے اعتدال رہے ہیں۔ پھر اس میں ایک احساس برتری بھی تھا کہ ہم ان ہاتھوں کی تھکاوٹ دور کر رہے ہیں جن کے ذریعے شیخ کا جاہ و جلال کاغذ پر منتقل ہوتا ہے۔ ظاہر ہے زبان تو کوئی دبانے والی چیز نہیں ہے۔
دبانے کا یہ عمل سات سے دس منٹ تک جاری رہتا تاآنکہ حافظ صاحب خود ”چلو بس!“ کہ کر اٹھ جاتے۔ میرا گمان ہے کہ حافظ صاحب اگر دن بھر ”چلو بس!“ نہ کہیں تو یہ لڑکے ان کی خدمت سے کبھی سیر نہ ہوں۔

یہ سات تا دس منٹ کی مجلس وہ مجلس تھی جس میں ہم نے کشت زعفراں والے محاورے کو مجسم شکل میں دیکھا۔ بہت سارے اشعار سنے، بہت سے لطیفے سنے. بہت سی نادر پنجابی ضرب الامثال سنیں اور بہت سے فقہی مسائل پر رائے لی۔

اے ابرِ کرم ذرا تھم کے برس

ایک دن سبق ختم ہوا تو باہر تیز بارش ہو رہی تھی۔ ہم نے کہا کہ ’استاد جی! آج تو آپ لمبی دیر کے لیے ہمارے پاس ہیں‘۔ حافظ صاحب کا جسم درجن کے قریب مساجر مشینوں کے بیچ کشتی کی طرح ہچکولے کھا رہا تھا۔ فورا مسکرائے اور شعر پڑھا.
اے ابرِ کرم ذرا تھم کے برس
اتنا نہ برس کہ وہ آ نہ سکیں
جب آجائیں تو جم کے برس
پھر اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں
شعر اپنے موقع کی پاور کے ساتھ اتنا جاندار تھا کہ ہم نے مکرر سنا اور پھر باقی زندگی تک نہیں بھولے۔ ان کے قابل فرزند اور ہمارے استاد عمر عبد السلام نے لکھا ہے کہ ’والد کو بارش بہت پسند تھی‘۔
ایک دن ہم نے ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا کہ ’استاد جی!آپ کبھی کسی مشہور شخصیت سے ملے ہیں؟ فورا کہتے ’ہاں! حارث سعید نال ملیا واں، اونھاں نالوں زیادہ کون مشہور اے‘۔  پھر ہمیں لاچار دیکھ کر دو ایک مشہور پاکستانی شخصیات کے ساتھ ملاقات کا قصہ بتایا۔

حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کے پاس سامعین کو متوجہ رکھنے کے لیے علم تھا۔ وہ حاضرین کی توجہ کے لیے طویل راگ اور اونچے سپیکروں کے محتاج نہیں تھے

حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب رحمہ اللہ نے 77 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ہم نے انھیں بزرگی کی عمر میں سنا اور دیکھا۔ لیکن جو لوگ انھیں ایام جوانی سے پہچانتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ حافظ صاحب اُس وقت بھی دھیمی آواز اور بے تکلف لہجے میں تقریر کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے پاس سامعین کو متوجہ رکھنے کے لیے علم تھا۔ وہ حاضرین کی توجہ کے لیے طویل راگ اور اونچے سپیکروں کے محتاج نہیں تھے۔ اللہ ان کے حال پر رحم فرمائے۔ آمین!

تحریر: احمد حنیف

وہ دیں کے معمار اور بھرم ہیں وہ میرے استاد محترم ہیں

اگر آپ حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کے حالات زندگی اور ان کی دین کے حوالے سے خدمات پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کی تصانیف جو آن لائن دستیاب ہیں 

 

1 تبصرہ
  1. sklep online کہتے ہیں

    Wow, marvelous blog structure! How lengthy have you ever been running a blog for?

    you make running a blog look easy. The entire glance of your website is excellent, as
    well as the content material! You can see similar here najlepszy sklep

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.