76 سالہ امام دین کے ووٹ کی طاقت

0 17

 ووٹ کی طاقت

نان ٹکی فروش امام دین کی کہانی۔

لاہور شہر میں رہنے والا نان ٹکی فروش امام دین کا تعلق بھارتی پنجاب کے ضلع امرتسر سے تھا۔ 1947 میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے بعد۔ امام دین کا والد ابراہیم اپنی بیوی غلام فاطمہ و خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ۔ ایک ماہ کے شیر خوار بچے امام دین کو لے کر پاکستان کی طرف عازم سفر تھاکہ بلوائیوں نے حملہ کیا۔ جس میں امام دین اور اس کی ماں غلام فاطمہ کے علاوہ اس کا ایک ماموں زندہ بچ کر لاہور پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ باقی خاندان کے درجن بھر سے زائد افراد بشمول ابراہیم شہید ہوگئے۔

غلام فاطمہ کے شوہر نے اپنی 14 ایکڑ زمین ہندوستان میں چھوڑی۔ تاکہ عزت و غیرت اور اسلامی زندگی بسر کرنے میں آسانی ہو۔ جو کہ ان کو ہندوستان میں رہتے ہوئے میسر نا تھی۔ سو اسی خاطر اپنی جاگیر چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا تھا۔ امام دین بتاتا ہے کہ میری ماں نے کبھی اپنے خاوند کے 14 ایکڑ زمین کا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ کیونکہ جب زمین آباد کرنے والا ہی چلا گیا تو زمین کا کرنا ہی کیا تھا۔ غلام فاطمہ نے محنت مزدوری کرکے امام دین کا پیٹ پالا اپنی ہمت کے مطابق اس کو پرائمری تک پڑھایا۔

پہلے انتخابات

مارچ 1951 کو پاکستان کے پہلے صوبائی انتخابات پنجاب میں غلام فاطمہ نے ووٹ ڈالا اور ووٹ کی طاقت کو آزمایا۔  پھر 1970 میں پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں امام دین نے اپنی ووٹ کی طاقت کو آزمایا۔  اور بھرپور جوش و جذبے کیساتھ ووٹ ڈالا۔ اسے امید تھی کہ عوامی اسمبلی بنے گی اور مذید خوشحالی آئے گی۔ تاہم ایسا کچھ نا ہوا۔ امام دین اپنی نان ٹکی کی ریڑھی لگا کر اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا رہا۔  اب تو اس کی ماں غلام فاطمہ بھی ووٹ کی طاقت آزمانے کے بعد دار فانی سے کوچ کر چکی تھی۔  اور جاتے جاتے اس کی شادی کر گئی تھی۔

خیر وقت گزرتا گیا اور امام دین اپنی ووٹ کی طاقت آزماتا گیا۔ کہ کبھی نا کبھی اس کی ووٹ کو عزت ملے گی۔  وہ نا سہی اس کے بچے ہی سرکاری نوکری حاصل کر لینگے۔  سرکاری نوکری نا سہی صحت کی اچھی سہولیات مل جائیں گیں اور دوسرے ملکوں کی طرح امام دین کو بڑھاپے میں گورنمنٹ کی طرف سے وظیفہ ہی مل جائے گا۔ تاکہ وہ بغیر مشقت کئے اپنا بڑھاپا کاٹ سکے۔ مگر بے سود رہا۔

 

امام دین کا کہنا ہے کہ اس نے وزیر اعظم پاکستان ،ذوالفقار علی بھٹو،محمد خان جونیجو،بے نظیر بھٹو،نواز شریف،ظفراللہ خان جمالی،چوہدری شجاعت حسین،شوکت عزیز،یوسف رضا گیلانی،راجا پرویز اشرف، پھر سے نواز شریف،شاہد خاقان عباسی،عمران خان اور اب شہباز شریف تک کیلئے ووٹ کی طاقت کو آزمایا۔ مگر کچھ نا پایا۔

وہ کہتا ہے۔ میں نے بہت نعرے مارے کہ فلاں زندہ باد۔ فلاں پائندہ باد۔ فلاں یہ کچھ کرے گا اور فلاں یہ کرے گا۔ مگر سب نے اپنی ہی فکر کی کسی نے غریب کا کچھ نا سوچا۔  بلکہ جو بھی آیا پہلے سے ظالم بن کر آیا۔

 ووٹ بغیر پاکستان اچھا خاصہ چل رہا تھا۔

امام دین کہتا ہے کہ جب وہ چھوٹا تھا اور پاکستان بھی نیا نیا بنا تھا۔ تب بغیر ووٹ کے 1970 تک پاکستان اچھا خاصہ چل رہا تھا۔ عزت کی روٹی کمائی اور کھائی جاتی تھی۔ مال و جان محفوظ تھے۔ تاہم جیسے جیسے ووٹ ڈالتے گئے ملک مقروض ہوتا گیا اور ذلت و رسوائی بڑھتی گئی اور ہم غریب لوگ غریب ہی رہے۔ جبکہ سرمایہ دار لوگ وزارتیں لے کر مذید امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔ حتی کہ اس کے ہم عمر لوگ بہت سی وزارتوں کیساتھ بہت سی ملوں اور جاگیروں کے مالک بن گئے اور میں نان ٹکی کی ریڑھی سے اسی ریڑھی تک رہا۔

ہاں مگر خودداری ہے کسی سے مانگتا نہیں چاہے۔ کم سہی مگر اچھا اور حلال کماتا ہوں۔ اب میرے پوتے پوتیاں،نواسے نواسیاں بھی ہیں۔ جو پڑھ رہے ہیں میرے بچے بھی پڑھے ہیں۔ ایک بیٹا دبئی میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ مگر یہ سب مجھے ووٹ نے نہیں دیا۔ بلکہ حق حلال کی کمائی نے دیا ہے۔ اگر ووٹ کی بدولت ایسا ہوتا تو مجھے بھی علاج کی اعلی سہولیات ملتیں ،میرے بھی بچے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے،ہماری بھی بڑی سی کوٹھی ہوتی اور اگر ووٹ میں اتنی ہی طاقت ہوتی تو ہندوستان میں چھوڑ کر آنے والی 14 ایکڑ مجھے زمین ملتی۔

ووٹ کی کوئی طاقت نہیں!!!

امام دین کہتا ہے کہ ووٹ کی کوئی طاقت نہیں۔ طاقت جاگیر و چوہدراہٹ کی ہے اگر ووٹ کی طاقت ہوتی، تو آج مجھے کچھ ملا ہوتا۔ اگر مجھے کچھ نا بھی ملا تو میرے بچوں کو تو ضرور ملتا۔ میں نے سوال کیا بابا امام دین اب کی بار کسے ووٹ ڈالوں گے وہ کہنے لگا ابھی بھی ووٹ کی طاقت پہ امید رکھنا میرے لئے بہت بڑا جرم ہو گا۔

ہاں ووٹ ڈالو مگر اس کو طاقت نا سمجھو۔ اگر ووٹ میں طاقت ہوتی تو 1970 کے عام انتخابات سے پہلے صرف پنجاب اسمبلی کے لئے 1951 میں انتخابات ہوئے تھے۔ اس قبل 23 سال تک مملکت پاکستان بغیر ووٹ کے بہت اچھے سے چلتا بھی رہا اور پھلتا بھی رہا جیسے ہی ووٹ کی طاقت آزمائی شروع ہوئی تو اس کا حال دیکھ لیں قرضہ دینے والا ملک اب خود مقروض ہے۔

بابا امام دین کہتا ہے اب ووٹ کی طاقت آزمانے کو میرا دل نہیں کرتا۔ کیونکہ ووٹ کی طاقت جیتے امیدوار کو طاقت و تقویت دیتی ہے نا کہ ووٹر کو اگر ووٹ سے طاقت ہوتی تو میرے خاندان کے لوگ ہندوستان سے ہجرت کرتے ہوئے شہید نا ہوتے۔  ہاں طاقت خودداری میں ہے رزق حلال میں ہے۔ اللہ سے لگاؤ میں ہے۔ آپ ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں ضرور ڈالیں مگر سوچ لیں بغیر کمائے آپ کا گھر ووٹ نہیں چلا پائے گی۔

تحریر:  غنی محمود قصوری

جمہوری سیاست ایک گند ہے |کیچڑ میں اترتے وقت یا تو کچھا پہن لیں یا پھر کیچڑ کی  پرواہ مت کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.